لاپتہ افراد کی تنظیم (اے پی ڈی پی) کا سرینگر میں احتجاجی دھرنا
سرینگر:۲۷،مئی : / گمشدہ افراد کے لواحقین کی تنظیم اے پی ڈی پی نے ماہانہ احتجاجی مظاہرہ جاری رکھتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اُنکے عزیز واقارب کی بازیابی کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جائیں ۔کے این این کے مطابق اتوار کو پریس انکلیو سرینگر میں پرویز امروز کی سربراہی والی گمشدہ افراد کے لواحقین کی تنظیم(اے پی ڈی پی)کے ممبران نے خاموش دھر نا ۔انہوں نے یہ دھرنا اپنے عزیز واقارب کی بازیا بی کے حق میں کیا ۔مظاہرین نے خاموش احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے کہا’ ہمارا مطالبہ پیسے اور نوکری نہیں ہے۔ ہمیں صرف اپنے پیاروں کا پتہ بتادیا جائے کہ وہ کہاں ہیں،وہ ہوا میں تحلیل تو نہیں ہوگئے ‘۔ پریس کالونی سرینگر میں دیئے جانے والے دھرنے میں درجنوں خواتین شریک تھیں۔ انہوں نے ہاتھوں میں لاپتہ ہونے والے اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ایک خاتون نے اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ اس کے بیٹے کو فورسزنے گرفتاری کے بعد لاپتہ کر دیا ہے اور اپنے بیٹے کی جدائی کے کرب میں ہیں جبکہ انکے شوہروفات پاچکے ہیں۔ایڈوکیٹ پرویز امروز کا ماننا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں لوگ لاپتہ ہوئے ہیں مگر کشمیر میں گمشدہ افراد کی شرح تعداد سر فہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے بھی 3ہزار گمشدہ افراد کی تعداد کو تسلیم کیا ہے۔ یاد رہے کہ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ27 برس کے دوران8 ہزار افراد لاپتہ ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر حراست میں لینے کے بعد سے گمشدہ ہیں۔گمشدہ افراد کی تنظیم اے پی ڈی پی کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد آٹھ ہزار کے قریب ہے۔تنظیم کے مطابق ڈیڑھ ہزار خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر لاپتہ ہیں اور اب ’نیم بیوائیں‘ کہلاتی ہیں۔ان خواتین نے بتایا’’ ہم نقد امداد یا نوکری نہیں بلکہ مکمل انصاف چاہتی ہیں‘‘۔ پرویز امروز کے مطابق ایسی سینکڑوں خواتین کشمیر میں اپنے اقربا کی گمشدگی کے بعد نفسیاتی تناؤ میں مبتلا ہوچکی ہیں۔
Comments are closed.