مسئلہ کشمیر کے بغیر بھارت کے ساتھ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں /سرتاج عزیز

پاکستان ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات کا حامی تاہم ملک کی سالمیت پہلی ترجیح

سرینگر /27مئی / کشمیر مسئلہ مذاکراتی عمل میں شامل نہیں ہو گا تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کی بات کرتے ہوئے پاکستان نے کہا ہے کہ اگر بھارت کے ساتھ دوستی نہیں ہو سکتی تب بھی پاکستان اس سے اچھے تعلقات کی خواہش رکھتا ہے تاہم دو طرفہ مذاکرات صرف بھارت کے من پسند امور پر نہیں کیے جائیں گے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی مذاکراتی عمل کی دعوت پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم کے قومی سلامتی مشیر سرتاج عزیز نے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کو مذاکراتی عمل میں شامل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی بھارت کے ساتھ تب تک کسی قسم کے مذاکرت ہونگے ۔ اسلام آباد پاکستان میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف حالیہ دھمکیوں کا معاملہ قوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نوٹس میں لایا جائے گا۔سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے، مشکلات کا حل مذاکرات میں ہی ہوتا ہے۔’ظاہر ہے کہ ہم مذاکرات بھارت کی شرائط پر نہیں کریں گے بلکہ ان تمام ایشوز پر کریں گے جو دونوں ممالک کا مشترکہ ایجینڈا ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ جب تک کشمیر کامسئلہ مذاکراتی عمل میں شامل نہیں ہو گا تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

Comments are closed.