رمضان المبارک میں وادی کشمیر کے بازاروں اور دیہی علاقوں میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم
گوشت ، سبزیوں ، بوئیلر مرغوں اور مصالہ جات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں
سرینگر /27مئی / ماہ رمضان میں بھی پوری وادی میں قصابوں ، بیکری ، سبزی ، بوئیلر مرغ اور سبزی فروشوں نے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر دیا ہے مہنگائی نے غریب عوام کا زندہ رہنا دوبھر کر دیا ہے ریٹ لسٹوں کے آویزان رکھنے کی کاروائیاں بے معنی منافع خوروں اور سرکاری انتظامیہ کے درمیان رابط ہونے کے باعث لوگوں کی چمڑی اتاری جا رہی ہے اور کوئی پرسان حال نہیں۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا سٹی رپورٹر کے مطابق ماہ رمضان کے دس دن مکمل ہونے کے بعد بھی پوری وادی کے بازاروں میں لوٹ کھسوٹ اور گراں بازاری عروج پر پہنچ گئی ہے ، قصابوں بیکری فروشوں ، سبزی بیچنے والوں ، مرغ فروشوں ، دودھ بیچنے والوں نے قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا ہے منہ مانگی رقم گراہکوں سے وصول کی جاتی ہے پوری وادی میں قصاب گوشت بے حساب سے فروخت کر رہے ہیں بوئیلر مرغوں کی قیمت فی کلو 150روپیہ ، سبزیوں کی قیمتیں روز بدلتی ہیں دودھ فروشوں نے تین سے پانچ روپیہ فی لیٹر میں اضافہ کر دیا ہے کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا کا اضافہ کر دیا گیا ہے اور محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کی جانب سے جو ریٹ لسٹ دکانداروں کو آویزان رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے وہ اب بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں اضافی قیمتیں از خود دکانداروں ، قصابوں ، دودھ فروشوں ، سبزی بیچنے والوں نے مقرر کی ہیں منافع خوروں اور سرکاری انتظامیہ کے درمیان باضابط طور پر رابط ہونے کا عوام نے انکشاف کرتے ہوئے کہاکہ کن وجوہات کی بنا پر بغیر کسی جانکاری کے قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔سی این آئی کے مطابق عوامی حلقوں کے مطابق چیکنگ اسکارڈوں کا ہونا نہ ہونا ایک ہی بات ہے پوری وادی میں بازار منافع خوروں ، ذخیرہ اندوزوں کی مٹھی میں ہے سیول اور قانون نافذ کرنے والی انتظامیہ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے سامنے بے بس دکھائی دے رہے ہیں جس کے نتیجے میں غریب عوام کو راحت پہنچانے کے بجائے مصائب ومشکلات میں مبتلا کرنے کے مواقعے دستیاب رکھے جا رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کے مطابق سرکاری انتظامیہ کی جوابدہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی قصاب کا کوئی حساب سے گوشت فروخت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں شکایتیں درج کرنے کے باوجود ایسے قصابوں کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جار ہی ہے جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ سیول اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سرمایہ داروں کے سامنے بے بس ہیں۔ پوری وادی میں مہنگائی اور مافیا ازم کو تقویت پہنچائی جار ہی ہے غریب لوگوں کا جینا ناممکن ہو کر رہ گیا ہے اور انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو راحت پہنچانے کے ضمن میں صرف دعوئے اوروعدئے کئے جا رہے ہیں جنہیں حقیقت کے ساتھ کوئی واسط نہیں ۔
Comments are closed.