بھارت نے کلبھوشن یادو کی تعیناتی بدترین غلطی تھی /امر جیت سنگھ دلت
حافظ سعید کے خلاف معاملہ چلانے کے لئے ادا کرنی ہوگی بڑی قیمت
سرینگر /27مئی / سی این آئی بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق چیف امرجیت سنگھ دلت نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کی تعیناتی بھارتی ایجنسی کی بدترین غلطی تھی۔پاک بھارت خفیہ ایجنسیزکے سابق چیفس کی کتاب سے ہلچل برقرار ہے، سپائی کرانیکلز نامی کتاب پاک بھارت خفیہ ایجنسیز کے دو سابق سربراہوں کی گفتگو پر مبنی ہے۔ اس کتاب میں امرجیت سنگھ دلت نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کلبھوشن یادیو کی تعیناتی بدترین غلطی تھی، کسی سینئر افسر کو کیسے کھلے عام بلوچستان یا چمن بھیج سکتے ہیں ؟۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق پاکستانی روزنامہ ایکسپرس نیوز میں چھپی ایک خبر کے مطابق سابق را چیف امرجیت سنگھ دلت نے کتاب میں اعتراف کرتے ہوئے کہا آج تک آئی ایس آئی کے کسی ایجنٹ نے اپنی وفا داری نہیں بدلی، کلبھوشن یادیو کی تعیناتی بھارتی ایجنسی کی بدترین غلطی ہے، آپ اپنی بحریہ کے کسی سنیئر افسر کو کیسے کھل عام بلوچستان یا چمن بھیج سکتے ہیں ؟ کلبھوشن کے معاملے میں آئی ایس آئی کی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ ہوتا ہے، انھوں نے جاسوس کو فوراً ٹی وی کے سامنے پیش کر دیا۔امرجیت سنگھ دلت نے کتاب میں مزید کہا بھارت میں کچھ بھی ہو جائے الزام آئی ایس آئی پر ڈال دیا جاتا ہے، کارکردگی کے حوالے سے آئی ایس آئی، را سے بہت آگے ہے، دنیا بھر کی تمام خفیہ ایجنسیوں میں سے آئی ایس آئی سب سے دلچسپ ایجنسی ہے، میں نے کہا تھا اگر میں آئی ایس آئی کا سربراہ بن جاؤں تو مجھے بے حد خوشی ہو گی۔ان کا کہنا تھا آئی ایس آئی کے کسی ممبر کی وفاداری بدلنا ناممکن ہے، را تو کسی آئی ایس آئی ممبرکو نہ پکڑ سکی لیکن پاکستانی ایجنسی نے کلبھوشن کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر اعتراف جرم بھی کرالیا، انھوں نے اعتراف کیا کہ آئی ایس آئی ہی دنیا کی نمبرون خفیہ ایجنسی ہے، یہ اٹل حقیقت ہے، آئی ایس آئی اتنی موثر تنظیم نہ ہوتی تو ہر روز انڈیا میں اس پر الزام نہیں لگ رہا ہوتا۔بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق چیف کیساتھ ملکر لکھی گئی کتاب میں سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کارگل جنگ جنرل مشرف کا جنون تھا، مکتی باہنی کا قیام اور سقوط ڈھاکا ’’را ‘‘ کی اہم کامیابیاں ہیں، آئی ایس آئی کشمیر میں تحریک آزادی کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پائی، نواز شریف کو کارگل آپریشن سے متعلق بہت کم معلومات تھیں۔اسد درانی نے مزید کہا پاکستانی وزرا اعظم آئی ایس آئی پر بھروسہ نہیں کرتے، ملکی سلامتی کے اہم معاملات پر آئی ایس آئی خود فیصلے کرتی ہے۔ ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید پرمعاملہ چلانے کے لئے بڑی سیاسی قیمت ادا کرنی ہوگی۔۔درانی نے کہا کہ اگر آپ سعید کے خلاف معاملہ چلانا چاہتے ہیں تو پہلا ردعمل ہوگا یہ ہندوستان کے لئے ہے، آپ اسے پریشان کر رہے ہیں، وہ بے قصور ہے، وغیرہ۔ اس کی سیاسی قیمت بڑی ہے۔ اسپائی کرانکلس را آئی ایس آئی اور دی الیوشن ا?ف پیس نام کی کتاب میں درانی اور دلت کے درمیان معمولی بات چیت کی گئی ہے، جس میں سرجیکل اسٹرائیک کل بھوشن جادھو، نواز شریف سمیت کشمیر اور برہان وانی کے موضوع شامل ہیں۔جب دلت نے پاکستان سے سعید کی قیمت کے بارے میں دریافت کیا تو اس پر درانی نے کہا کہ اس پر معاملہ چلانے کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔سعید پر عسکری سرگرمیوں میں اس کے کردار کے لئے 10 ملین امریکی ڈالر کا انعام ہے۔ گزشتہ سال جنوری سے نومبر تک وہ ہا وس اریسٹ (نظر بند) تھا۔ اس کی تنظیم جماعت الدعوۃکو پابندی عائد شدہ لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کا سربراہ سمجھا جاتا ہے جو 2008 میں ممبئی حملے کرنے کے لئے ذمہ دار ہے، جس میں 166 لوگ مارے گئے تھے۔ سعید کو ممبئی حملوں کے بعد اقوام متحدہ کی طرف سے عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔کتاب میں درانی نے سعید کو حراست میں لئے جانے پر لکھا ہے کہ اسے عدالت لے جانے میں کچھ نیا نہیں تھا۔ ابھی بھی اس کا امکان ہے، اگر اسے حراست میں لیاجائے تو کوئی نیا طوفان کھڑا ہوجائے، 6 ماہ کے اندر وہ باہر آجائے گاَ۔
Comments are closed.