پالتھین سے پاک کرنے کے سرکاری دعوے بے اثر
شہر سرینگر سمیت وادی کے تمام بڑے اضلاع میں زہر آلود پالیتھین لفافوں کا کاروبار جاری
سرینگر /27مئی / شہر سرینگر کوپالیتھین سے پاک کرنے کے ضلع انتظامیہ کے دعوؤں کی پول کھل گئی ہے جبکہ عدالت عالیہ کے احکامات کی دن کے اُجالے میں اور پولیس کی ناک کے نیچے دھجیاں اُڑائی جارہی ہے اور شہر سرینگر سمیت وادی کے تمام بڑے اضلاع میں زہر آلود مضر ماحولیات پالیتھین لفافوں کا کاروبار جاری ہے ۔کرنٹ نیوزآف انڈیا کے مطابق شہر سرینگر اور سیاحتی مقامات پر پالیتھین لفافوں کے استعمال پر عدالت عالیہ کی جانب سے پابندی عائد کرنے کے باوجود بھی وادی میں پالیتھین لفافوں کا استعمال جاری ہے جبکہ شہر سرینگر کو پالیتھین لفافوں سے پاک کرنے کے ضلع انتظامہ کے دعوے سراب ثابت ہورہے ہیں ۔ شہر سرینگر کے اہم بازاروں اور بڑے ہسپتالوں کے باہر پالیتھین لفافوں کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا جارہا ہے ۔ شہر سرینگر کے لالچوک، سرائے بالا، گھونی کھن بازار، مہاراجہ بازار، بٹہ مالو، قمر واری، ڈلگیٹ، کے علاوہ کرانگر، جواہر نگر میں دکاندار اور ریڈہ والے بغیر کسی رُکاوٹ کے خریداروں کو اشیائے خوردونوش پالیتھین لفافوں میں بھر کر دیتے ہیں جبکہ پالتھین لفافوں کا کاروبار کرنے والے بھی دن کے اُجالے میں ہول سیل ریٹ میں پالیتھین لفافے بیچ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ شہر کے بڑے اسپتالوں کے باہر جن میں صدراسپتال(ایس ایم ایچ ایس)، بون اینڈ جوائنٹ اسپتال برزلہ، لل دید اسپتال ، جی بی پنتھ ، امراض اطفال اسپتال، سکمز صورہ ، رعناواری سب ڈسٹرکٹ اسپتال، اور چھاتی کے امراض کے (سی ڈی) اسپتال کے باہر ریڑے والے میوہ و دیگر اشیاء پالیتھین لفافوں میں بھر کر دیتے ہیں جبکہ مریضوں کو ادویات بھی اسپتالوں کے باہر قائم میڈیکل شاپ پالیتھین لفافوں میں ہی دیتے ہیں جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وادی میں کس طرح جنگل راج قائم ہے اور انتظامیہ میں بیٹھے افسران کس طرح اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر عدالتی احکامات کی دھجیاں اُڑاتے ہیں ۔ دوسری جانب سرینگر میونسپل کارپوریشن اور پولیس بھی اپنی منصبی ذمہ داروں سے بھاگ رہے ہیں ۔پولیس اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود پالیتھین لفافوں کا غیر قانونی کاروبار جاری ہے جبکہ سرینگر میونسپل کارپوریشن کے افسران و اہلکاروں کو بھی پالیتھین لفافوں کا استعمال کرتے ہوئے دیکھاگیا ہے ۔
Comments are closed.