اتحاد و اتفاق ہماری کامیابی کی واحد ضمانت:ملک
بھارت نے کشمیریوں کے حق آزادی کو دبانے کیلئے ہمیشہ تعمیر و ترقی اور امن کے نعرے بلند کئے
سرینگر :۲۵،مئی / لبریشن فر نٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا کہ اتحاد و اتفاق ہماری کامیابی کی واحد ضمانت ہے اور یہی ہتھیار ہے کہ جس سے ہم باطل پر غلبہ پاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کے حق آزادی اور حق خودارادیت کو دبانے کیلئے ہمیشہ تعمیر و ترقی اور امن کے نعرے بلند کئے۔ مذہب سے دُوری اور زرپرستی نے ہمارے سماج کوخراب کرکے اس کے تانے بانے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کو موصولہ بیان کے مطابق مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کو مضبوط تر کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ ہم سب ایک اللہ،ایک رسول آخر زمان ﷺ،ایک کعبے، ایک کلمے اور ایک قرآن میں ایقان و ایمان رکھتے ہیں اور اسی لئے ہم سبھی پر لازم ہے کہ اپنے جملہ امور حیات میں ایک بن کر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ہماری صفوں کے اندر مسلک اور مشرب کے نام پر انتشار و افتراق پھیلانا چاہتا ہے اور ہمارے علماء ، مذہبی دانشوروں اور سماجی راہنماؤں پر لازم ہے کہ وہ مسلمانوں کی صفوں کے اندراتحاد کو قائم رکھنے اور مضبوط بنانے کیلئے کاوشیں تیز کریں۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے کشمیر آکر دئے گئے بیان کہ جس میں موصوف نے کشمیر کی تعمیر و ترقی کی باتیں کی تھیں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ دنیا کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ہر قابض و جابر اپنے مفتوحہ اور مقبوضہ اقوام اور زمینوں کیلئے تعمیر، ترقی، امن و استحکام کی باتیں بناتا رہتا ہے اور مقبوضین کو ایسے ہی خوشمنا نعروں سے فریب دے کر انکے حق آزادی کو دبائے رکھتا ہے۔ بھارت بھی پچھلے ۷۰ برس سے جموں کشمیر کے لوگوں کی آزادی اور حق خود اداریت کی مانگ کو درکنار کرنے ، لوگوں کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے اور ہمارے حق کی نفی کرنے کی نیت سے تعمیر ،ترقی، سڑک پانی بجلی،نوکریوں اور ایسے ہی دوسرے استعماری حربوں کا استعمال کرتا آرہا ہے لیکن فریب اور کرپشن کے ان سبھی حربوں کے باوجود اسے مسئلہ جموں کشمیر کو دبانے یا یہاں کے لوگوں کے دلوں سے آزادی اور حق خود رادیت کے ولولے کو نکال باہر کرنے میں ناکامی ہی نصیب ہوئی ہے ۔حق یہ ہے کہ مسئلہ جموں کشمیر کو حل کرنے سے بھاگنے کیلئے کئے جانے والے ان تاخیری حربوں نے بھارت کو سوائے رسوائی کے کچھ نہیں دلایا اور جموں کشمیر کے لوگ اور خاص طور پر جوان آزادی کے حصول کیلئے مذید بہادر، مذید پرجوش اور جوان عزم بن چکے ہیں۔یاسین ملک نے کہا کہ بنیادی مسئلہ جموں کشمیر کو حل کئے بغیرتعمیر و ترقی اور امن و استحکام کی باتیں کرنا خواب ہی رہیں گی اسلئے حق کی نفی اور لیپا پوتی صرف اور صرف مذید عدم استحکام اور خرابی ہی پیدا کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ جموں کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے اور پرفریب نعروں سے اس کو معدوم کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے اسلئے ضروری ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے اور قربانیاں دینے والے جموں کشمیر کے باسیوں کی امنگوں، آرزؤں اور مطالبات کے عین مطابق اس کو حل کرنے کی جانب توجہ مبذول کی جائے تاکہ جنوبی ایشیاء کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں امن و استحکام اور تعمیر و ترقی کے خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکیں۔انہوں نے مودی جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ کشمیری خوشحال رہیں لیکن وہ لوگ کیسے اور کیونکر خوشحال رہ سکتے ہیں کہ جنہیں روزانہ کی بنیاد پر آپ کی فوج ،پولیس اور فورسزا نکے جوان بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں تھمادیتے ہیں اور انکا ابدی قرار لوٹ لیتے ہیں۔سرمایہ داری نظام کی مذمت کرتے ہوئے جے کے ایل ایف چیئرمین نے کہا کہ اس نظام نے ہمارے بنیادی سماجی تانے بانے کو درہم برہم کردیا ہے اور آج دنیاوی معاملات ہم پر اس قدر غالب آچکے ہیں کہ اخلاقیات،انسانیت اور دین داری کے سبھی مظاہر ہماری زندگی سے مفقود ہوچکے ہیں۔زیادہ مال و منال کی حرص اور آسائشوں کی تمنا نے ہماری زندگیوں سے شرم و حیاء اور حلیمی کو نکال باہر کردیا ہے اور آج ہم اپنے معاشرے اور سماج میں انارکی اور بے حیائی کا دور دورہ دیکھتے ہیں جودلوں کو مضمحل و مضطرب کردیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے علماء، سماجی لیڈران ،اماموں اور سول سوسائٹی کو ترجیحی بنیادوں پر اس صورت حال کو اکٹھے مل بیٹھ کردرست کرنے کی جانب توجہ مبذول کرنی چاہئے۔
Comments are closed.