ہند پاک ممالک کے درمیان مخاصمانہ صورتحال مسئلہ کشمیر کا شاخسانہ :میر واعظ
جموں، لداخ، گلگت، بلتستان اور آر پار کشمیر کی سیاسی قیادت کو ملنے کا موقعہ فراہم کیاجائے
سرینگر :۲۵،مئی :کے این این / میر واعظ عمر فاروق نے آر پار کشمیرکی سیاسی قیادت کو ملنے کا موقعہ فراہم کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہند پاک کے درمیان موجودہ مخاصمانہ صورتحال مسئلہ کشمیر کا شاخسانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ برصغیر ہندوپاک کے ساتھ ساتھ اس پورے خطے میں امن و استحکام کیلئے مسئلہ کشمیر کا ایک منصفانہ حل تلاش کرنا ناگزیر ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ور ک کے مطابق مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت(ع) چیرمین نے کہا کہ جموں وکشمیر میں ایل او سی کے اوڑی ، سانبا اور کٹھوعہ سیکٹر میں جو جنگی صورتحال پیدا ہو چکی ہیں اس میں آر پار گولہ باری سے دونوں اطراف قیمتی جانوں کے اتلاف کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے فوجی بھی از جان ہو رہے ہیں اور یہ پہلی بار ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی ہے بلکہ بار بار اور ہر سال سرحدوں پر اس قسم کی افسوناک صورتحال سامنے آتی ہے۔جموں وکشمیر میں ایل او سی پر موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے حریت کانفرنس(ع) کے چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے بھارت اور پاکستان کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ سرحدوں پر جاری خونریز گولہ باری کو فوراً بند کرکے مسئلہ کشمیر کے دیرپا حل کیلئے ایک بامعنی مذاکراتی عمل کا آغاز کریں۔انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ مخاصمانہ صورتحال مسئلہ کشمیر کا شاخسانہ ہے اور جب تک اس مسئلہ کو حل نہیں کیا جاتا دونوں ممالک اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت ہندوستان ضد اور ہٹ دھرمی سے عبارت رویہ ترک نہیں کرتی تب تک حالات میں بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی ہے اس لئے موجودہ صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں ممالک کی سیاسی قیادت اس دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے کیلئے ایک بامعنی مذاکراتی عمل کا آغاز کریں۔میرواعظ نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت آر پار کشمیر جس میں جموں، لداخ، گلگت، بلتستان ، آزاد کشمیر ، اور کشمیر کی سیاسی قیادت کو ملنے کا موقعہ فراہم کریں کیونکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے ضمن میں کسی بھی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے اس طرح کا اقدام ناگزیر ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اور حریت پسند قیادت ہر اُس عمل میں تعاون دینے کیلئے تیار ہیں جس کا مقصد مسئلہ کشمیر کا یہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق ایک دیرپا حل تلاش کرنا اور امن کا قیام ہو۔انہوں نے کہا کہ برصغیر ہندوپاک کے ساتھ ساتھ اس پورے خطے میں امن و استحکام کیلئے مسئلہ کشمیر کا ایک منصفانہ حل تلاش کرنا ناگزیر ہے اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب حکومت ہندوستان یہ حقیقت تسلیم کریگی کہ آج نہیں تو کل انہیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنا پڑے گا۔میرواعظ نے بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفلز سے وابستہ بدنام زمانہ آفیسر میجر گگوئی جس نے کچھ عرصہ پہلے بڈگام میں نام نہاد انتخابات کے دوران ایک نہتے شہری فاروق احمد ڈار کو انسانی ڈھال بنا کر اپنی جیپ کے ساتھ باندھ کر تقریباً ۲۰ دیہاتوں میں گھمایا تھا کے حالیہ واقعہ کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مذکورہ میجر کو ماضی میں اس کے کئے کی سزا دی گئی ہوتی تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج افسپا اور دیگر کالے قوانین کے بل پر حاصل اختیارات کا ناجائز استعمال کررہی ہے اور اس ضمن میں جواب دہی کا کوئی عمل موجود نہیں ہے اور فوج کھلے عام جرائم کا ارتکاب کرتی پھر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ فوجی آفیسر کی جانب سے ایک کشمیری دوشیزہ کو ڈرا دھمکا کر ( جیسا کہ مذکورہ لڑکی کی والدہ نے کہا ہے کہ یہ فوجی انکے گھر آتے جاتے تھے اور انہیں اکثر و بیشتر ڈراتے اور دھمکاتے تھے ) کا جنسی استحصال کرنے کی کارروائی انتہائی شرم کی بات ہے اور حد یہ ہے کہ ریاستی پولیس نے مذکورہ فوجی آفیسر کے ساتھ کوئی کارروائی کرنے کے بجائے اُسے اس کے یونٹ کے حوالے کردیا۔انہوں نے کہا کہ جس فوج کو سرحدوں اور بارکوں میں ہونا چاہئے تھا وہ ہمارے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں دندناتی پھر رہی ہے اور ان کی شہری علاقوں میں موجودگی کئی سماجی مسائل پیدا کرنے کا موجب بن رہی ہے ۔انہوں نے اس واقعہ کی فوری تحقیقات اور مذکورہ فوجی آفیسر کو اُس کے جرم کی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ میرواعظ نے کشمیری سماج میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری سماج میں جو خرابی اور برائیاں سرایت کرگئی ہیں ان کا سدباب نہیں کیا گیا تو ہمارا سماج اور معاشرہ بربادی کی نذر ہوگا اور یہ یہاں کے والدین کی خصوصی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بچوں کی نگہداشت کے ساتھ ساتھ انکی روزانہ کی سرگرمیوں پر نظر گذر رکھیں۔ میرواعظ نے اعلان کیا کہ رمضان المبارک میں مجالس وعظ و تبلیغ کے سلسلے میں ان ایام میں بعد نماز ظہر یعنی۱۰؍ رمضان بروز سنیچر آستانہ عالیہ دستگیر صاحبؒ خانیار میں، ۱۱؍ رمضان المبارک بروز اتوار کرالہ مسجد حول، ۱۳؍رمضان المبارک بروز منگلوار مسجد شریف ٹینگہ پورہ زونی مر، ۱۴؍رمضان المبارک بروز بدھوار مسجد شریف لکھری پورہ نوشہرہ،۱۵؍رمضان المبارک بروز جمعرات مسجد شریف نرورہ میں وعظ و تبلیغ کی مجالس آراستہ ہونگی۔
Comments are closed.