موجودہ صورتحال کیلئے کشمیری عوام قطعی طور ذمہ دار نہیں:سرحدپارکی دراندازی بڑی وجہ :ڈاکٹرفاروق عبداللہ
مین اسٹریم اورعلیحدگی پسندمتحدہوں
جنگجو اپنی مرضی کے مالک،کسی کااُن پر کنٹرول نہیں،مودی سرکار واجپائی کانقشہ قدم اختیار کرے
سری نگر؍۲۱؍مئی؍کے این این/ سابق وزیراعلیٰ اوراپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے موجودہ صورتحال سے نجات پانے کے لئے مین اسٹریم اور علیحدگی پسند جماعتوں کے درمیان اتحاد کی وکالت کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ سرگرم جنگجو اپنی مرضی کے خود مالک ہیں اور ان پرکسی کاکنٹرول نہیں اور نہ وہ کسی کے کہنے پر اپنی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ کے این این مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق ایک دوٹوک انٹرویو کے دوران تین مرتبہ جموں وکشمیر میں وزیراعلیٰ اور ایک مرتبہ مرکز میں وزارت کے عہدے پر فائز رہے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ کشمیرمیں سرگرم جنگجو اپنی مرضی کے مالک ہیں اور یہ کہنا صحیح نہیں کہ وہ کسی کی ہدایت پر یا کسی کی ایماء پر اپنی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے ساتھ بات کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹرفاروق عبداللہ کا کہناتھا کہ میں نہیں جانتا کہ جنگجوؤں کو کوئی کنٹرول کررہاہے کہ نہیں اورمیں یہ بھی نہیں جانتا کہ ان کا قائد یا مالک کون ہے۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں یہ نہیں کہاجاسکتاکہ آیا مین اسٹریم یا علیحدگی پسند وں کی کوئی مطابقت ہے کہ نہیں ۔ ممبر پارلیمنٹ سرینگر ڈاکٹر فاروق نے ایک سوال کے جواب میں بتایاکہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ مین اسٹریم اور علیحدگی پسند جماعتیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر کشمیری عوام کو دہائیوں سے جاری مصائب اور مشکلات سے نجات دلانے میں اپنا رول ادا کریں۔انہوں نے کہاکہ ہم سب کو متحدہونا پڑے گا تاکہ ہم کشمیر وادی اور کشمیریوں کو دہائیوں کی مشکلات اور سانحات سے بری صورتحال سے نجات دلاسکیں۔ ڈاکٹر فاروق کا کہناتھا کہ انہیں امید ہے کہ کشمیری نوجوان بہت جلد تشدد کے منفی اثرات بشمول ملی ٹنسی اور سنگباری سے اُکتا جائیں گے اور تشدد کے سبھی راستوں کو خیرباد کہہ دیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ایک دن ضرورآئیگا جب پتھر پھینکنے والوں کے ہاتھ میں قلم ہوگی اور بندوق اٹھانے والوں کے کاندھے پرکتابوں سے بھرا بستہ ہوگا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بتایاکہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل اور نئی پود کا مستقبل تاریک بنتا جارہاہے اوراس کے ساتھ ساتھ ہماری سیاحتی صنعت بھی بری طرح سے متاثر ہورہی ہے ، اس لئے لازمی ہے کہ ہم سب مل بیٹھ کر مستقبل کے حوالے سے ایک بہتر حکمت عملی اور سوچ پیدا کریں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ایس کے آئی سی سی میں دوروز قبل وزیراعظم ہندنریندرا مودی کی تقریر کاحوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اپنی تقریر میں ہمارے وزیراعظم نے بھی اس بات کا ذکر کیاکہ ریاست کی سیاحتی صنعت میں کتنی گنجائش موجود ہے کہ وہ یہاں کے عوام کی معاشی اور اقتصادی صورتحال میں بہترلاسکے۔ایک اور سوال کے جواب میں سابق وزیراعلیٰ کاکہناتھا کہ موجودہ صورتحال کے لئے صرف کشمیری ذمہ دار نہیں بلکہ یہاں جو کچھ ہورہاہے ،اس میں پاکستان ملوث ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر پاکستان اپنی سرزمین سے جنگجوؤں کو یہاں بھیجنا بندکردے تو کشمیر کی صورتحال میں قابل قدر بہتری واقع ہوگی۔ تاہم انہوں نے کہاکہ مودی سرکار کو کشمیر اور پاکستان کے حوالے سے واجپائی کانقشہ قدم اختیار کرتے ہوئے مذاکرات کاعمل بحال کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ بھارت اورپاکستان کو کشمیر کا تنازعہ مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل کرنا پڑے گا کیونکہ مذاکرات کے بغیر آگے بڑھنے کاکوئی راستہ نہیں ہے ۔جنگ بندی کے حوالے سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ مرکزی سرکار کا یہ اقدام خوش آئند ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان کی جانب سے اس کا مثبت جواب دیاجائیگا۔
Comments are closed.