گاندربل میں مہنگائی کا عالم: حکام تماشائی
گراں بازاری اور ذخیرہ اندوزی عروج پر ،صارفین پریشان حکام تماشائی
اگر چہ ماہ رمضان ہمیں قربانی ، ایثار ،انسانیت کا عزیم در س دیتاہے اور ہمیں عدل و انصاف کا بھی تقاضہ کرتی ہے لیکن دوسری طرف اس کے بر عکس ہمارے تاجر حضرات معصوم اور مُفلس صارفین کوچیزوں کے عوض مہنگے دام وصول کرکے کوئی بھی موقع نہیں چھوڑ رہے ہیں ۔جے کے این ایس نمائندے کے مطابق بازاروں میں روز مرہ کی چیزوں کے دام اتنے اونچے ہوگئے ہیں کہ اس گرمی کے موسم میں بھی قیمتیں سُن کر سرد پسینہ آجاتا ہے اور ، طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے صارفین کو لوٹا جاتا ہے جبکہ چھوٹ کے نام پر لوٹ اور اَصلی کے نام پر نقلی سامان صارفین کو تھمادیاجاتا ہے ۔ملبوسات سے لیکر کھانے پینے کی چیزوں کے دام آسمان سے چھو رہے ہیں ۔ اس مہنگائی اور گراں فروشی کے طوفان نے ضلع گاندربل کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہے سبزی،ملبوسات،گوشت،مرغ اور بھی دیگر روز مرہ کی استعمال کی چیزوں کے عوض صارفین سے اضافی دام وصول کیا جا رہا ہے ۔اگرچہ عوام پریشانی اور قسم پُرسی کی حالات میں حکام کے انتظارمیں راہیں تک رہیں کہ کب انتظامیہ حرکت میں آئے تاکہ اس بڈھتی ہوئی مہنگائی کا تدارک ہوجائے لیکن انتظامیہ زخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف کاروائی کر نے کے بجائے اُنہیں اس میں اضافہ کر نے کا موقعہ فراہم کر تی ہے عام لوگوں کا مانا ہے ماہ رمضان کا مبارک مہینے میں ایشاء خوردنی کی خرود و فروخت میں کافی اضافہ ہو جاتا ہے اس کا ناجائیز فائیدہ اُٹھاتے ہوئے تاجر حضرات صارفین کو دو دو ہاتھوں سے لوٹتے ہیں جاوید احمد نامی ایک صارف نے نمائیندے کو بتایا کہ اگر چہ قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کے لئے ادارے اکثر و بیشتر تہواروں اور اس مہینے ماہ رمضان میں نمودار ہوتے تھے لیکن اب کی بار یہ محکمے کئی دیکھائی نہیں دے رہیں اور تاجر اس کا فائیدہ اُٹھاتے ہوئے عوام کو لوٹتے ہیں تاہم حکام عوامی مشکلات کو کم کر نے کے لئے کو ئی بھی اقدام نہیں اُٹھا رہی ہے فریدہ نامی ایک خاتوں نے بتایا کہ ایک طرف عام صارف گرمی کے اس موسم میں گرمی کی تپش سے جُلس رہے ہیں وہی مہنگائی کی مار سے اس میں مذید اضافہ ہو رہا ہے تاہم دوسری طرف افسر لوگ دفتروں میں بیٹھکر ایر کنڈیشنوں کا مزہ لیتے ہیں اور عام لوگوں کو طرح طرح کے مشکلات جھلنے پڑتے ہیں عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر چہ آئے روز حکومت اور صوبائی انتظامیہ لوگوں کو بہتر سہولیات بہم رکھنے کے لئے واعدے اور اعلانات کر تے ہیں تاہم زمینی سطح پر لوگوں کو دقتوں کا سامنا کر نا پڑتا ہے عوامی حلقوں نے سرکار اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے وہ بند اور عالی شان کمروں میں مٹینگین کر نے کے بجائے باہر آکر عوام کو درپیش مشکلات کا جائیزہ لیکر اِن کا ازالہ کریں ۔
Comments are closed.