قئمو کولگام میں جنگجوؤں نے پولیس وفورسز پر گولیاں چلائیں

پولیس و فورسز نے جاں بحق ہوئے عسکریت پسند کے لواحقین کو زدکوب کیا
قئمو کولگام میں فورسز اہلکاروں نے گولیاں چلنے کے بعد جاں بحق ہوئے عسکریت پسند کے لواحقین کو زد کوب کر کے لہو لہاں کر دیا ،جاں بحق ہوئے عسکریت پسند کے والد نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں یہ بتایا جائے کہ اسے اور اس کے گھر والوں کو کس با ت کی سزا دی گئی ۔اے پی آئی نمائندے کے مطابق 4اور5جون کی درمیانی رات کو قئمو کولگام کے زرگر محلہ میں نامعلوم مسلح افراد نے فورسز پر گولیاں چلائیں اور فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی جسے علاقے میں افراتفری اور خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا ،اس دوران پولیس و فورسز کے اہلکار آپے سے باہر ہوئے اور جاں بحق ہوئے عسکریت پسند ماجد زرگر کے گھر میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے مبینہ طور پر ان کی والدہ دلشادہ ،والد غلام محی الدین زرگر ، بھائی فیروز احمد اور بلال احمد کو زدکوب کرکے لہو لہاں کر دیا ۔ پولیس وفورسز اہلکاروں نے رہائشی مکان میں گھس کر کھانے پینے کی اشیاء اور گھریلوں سامان بھی تہس نہس کیا ۔جاں بحق ہوئے عسکریت پسند کے والد غلام محی الدین زرگر نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ میرا بیٹا ضرور عسکریت پسند تھا تاہم کئی برس پہلے وہ فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا تب سے عسکریت پسندوں کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے میرا سرمایہ میرا بیٹا تھا جب وہ ہی نہیں رہا میں کیسے کسی ایسی سرگرمی میں حصہ لوجو میرے لئے دوبارہ پریشانی کا باعث رہے ۔ غلام محی الدین زرگر کے مطابق نا معلوم مسلح افراد نے قئمو کی گنجا ن بستی میں پولیس و فورسزپر گولیاں چلائی اور وہاں سے ایک کلو میٹر کی دوری پر پولیس و فورسز نے میرے رہائشی مکان پر چھاپہ ڈالا اور مجھے اور میرے گھر والوں لو لہو لہا ں کر دیا ،میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ مجھے کس جرم کی سزا دی گئی

Comments are closed.