پازال پورہ بجبہاڑہ میں دن ددھاڑے پولیس گاڑی پر جنگجوؤں کی شدید فائرنگ
ایس پی او ہلاک ، ہیڈ کانسٹبل زخمی ، علاقے میں سنسنی کے بیچ حملہ آوروں کی تلاش بڑے پیمانے پرشروع
سرینگر / 15مئی/سی این آئی/ جنوبی کشمیر میں جنگجویانہ سرگرمیوں میں تیزی کے بیچ جنوبی ضلع اننت ناگ کے پازال پورہ بجبہاڑہ علاقے میں دن دھاڑے مسلح جنگجوؤں کی پولیس پارٹی پر حملے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا جبکہ اس کا دوسرا ساتھی زخمی ہو گیا ۔پولیس ترجمان کے مطابق پازال پورہ بجبہاڑہ میں جنگجوؤں نے پولیس گاڑی کو نشانہ بنا کر اس پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا ۔انہوں نے بتایاکہ واقعہ کے فوراً بعد فورسز نے علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارروائی عمل میں لائی اور حملہ آوروں کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کی گئی ہے ۔سی این آئی کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پازال پورہ بجبہاڑہ علاقے میں منگل کے بعد دوپہر اس وقت سنسنی پھیل گی جب علاقے میں گولیاں چلنے کی آواز سنائی دی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جنگجوؤں نے علاقے سے گزار رہی ایک پولیس گاڑی کو نشانہ بنا کر اس پر اندھا دھند فائرنگ کی جس دوران گاڑی میں سوار پولیس اہلکاروں نے بھی جوابی فائرنگ کی ، ذرائع کے مطابق طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ کچھ دیر تک جاری رہا جس دوران گولیوں کی گن گرج سے پورا علاقہ لرز اٹھااور لوگ جانوں کو بچانے کیلئے محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگئے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ طرفین کے مابین گولی باری کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار جن کی شناخت ہیڈ کونسٹبل عبد الرشید اور ایس پی او بلال احمد کے بطور ہوئی زخمی ہو گیا جن کو نزدیکی اسپتال علاج و معالجہ کیلئے منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے ان کی حالت نازک دیکھ کر انہیں سرینگر منتقل کیا جہاں بلال احمد نامی ایس پی او زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔معلوم ہوا ہے کہ پولیس گاڑی پر حملے کے بعد جنگجوؤں جائے واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔جس کے بعد فوج و فورسز کی بھاری تعداد جائے واردات پر پہنچ گئی جنہوں نے پورے علاقے کو محاصرے میں لیکر حملہ آوروں کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کی تاہم آخری اطلاعات ملنے تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے ۔ ادھر پولیس کے ایک سنیئر افسر نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جنگجوؤں نے پازال پورہ علاقے میں پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنا کر اس پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کی گئی ہے اور اس ضمن میں کیس درج کرکے تحقیقات بھی شروع کی گئی ہے ۔
Comments are closed.