کشمیر میں جنگجوئیت کے رجحان میں اضافہ ، پی ڈی پی بھاجپا حکومت کی غلط اور نوجوان کُش پالیسیوں کا نتیجہ /ڈاکٹر فاروق
وادی کے حالات کو سدھارنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے لیکن دونوں جماعتوں میں اتفاق کا فقدان
سرینگر/14مئی ریاست خصوصاً وادی کے حالات کے تئیں مرکز کی غیر سنجیدگی اور بے حسی پر زبردست برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ بار بار صورتحال کی سنگینیت کے بارے میں آگاہ کرنے کے باوجود نئی دلی زمینی صورتحال کو اَن دیکھا کرتی گئی اور اس دوران حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس پر منعقدہ صوبہ کشمیر کے ایک غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پارٹی کے کارگذار صدر عمر عبداللہ اور جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کے علاوہ صوبہ کشمیر کے عہدیداران اور انچارج کانسچونسیز نے شرکت کی۔ اجلاس کے وادی کے حالات پر تبادلہ خیالات کیا گیا ، اس دوران شرکاء نے ریاست کی تباہ کن سیاسی، سیکورٹی ، اقتصادی اور امن و قانون کی صورتحال پر زبردست تشویش اور برہمی کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ حکمرانوں کی نااہلی سے اس وقت ریاست سیاسی خلفشار اور انتظامی انتشار سے دوچار ہے جبکہ بدترین اقتصادی اور معاشی حالات نے ریاست اور ریاست کے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ شرکاء نے کہا کہ ماضی میں ریاست کی مالی حالات کا جائزہ لینے کیلئے ہر 3ماہ میں خزانہ سے جڑے تمام محکموں کی میٹنگ منعقد ہوتی جس سے ریاست کی اقتصادی اور معاشی صورتحال کی صحیح صحیح تصور سامنے آجاتی تھی لیکن پی ڈی پی بھاجپا حکومت کے معرض وجود میں آنے کے بعد ان میٹنگوں کا انعقاد ایک بار بھی نہیں ہو اہے جو بے حد بدقسمتی کی بات ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ اجلاس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وادی کے موجودہ حالات کیلئے مرکزی سرکار کی غیر سنجیدگی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے مرکزی لیڈر شپ کو بار بار خبردار کیا، آل پارٹیز کا وفد صدرِ جمہوریہ، وزیر اعظم اور دیگر مرکزی لیڈر شپ سے ملاقی ہوئی اور انہیں ریاست کی دگرگوں صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا لیکن نئی دلی نے سب کچھ اَن دیکھا اور اَن سُنا کردیا۔انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات ہے کہ آج بھی مرکزی سرکار وادی کی سنگین صورتحال کو غیر سنجیدگی سے لے رہی ہے اور حالات کو سدھارنے میں کوئی بھی دلچسپی نہیں دکھا رہی ہے۔ مرکزی کے اس طرزِ عمل سے کشمیریوں کے دل بدظن ہوگئے ہیں۔آئے روز خونین واقعات پر زبردست تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی بھاجپا حکومت کی غلط اور نوجوان کُش پالیسیوں سے آج جنگجوئیت کے رجحان میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور پڑھے لکھے نوجوان جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی کے حالات کو سدھارنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے لیکن مخلوط اتحاد میں شامل دونوں جماعتوں میں اتفاق کا فقدان ہے۔ صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ شرکاء کو پارٹی کی مضبوطی اور عوام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی بالادستی ہی مقدم ہے۔ انہوں نے شرکاء کو تاکید کی کہ وہ لوگوں کو درپیش مسائل و مشکلات کو ہر سطح پر اُجاگر کرنے کیلئے پیش پیش رہیں اور اپنے اپنے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کریں۔ اجلاس میں پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال، سینئر نائب صدرِ صوبہ چودھری محمد رمضان، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، پیرزادہ غلام احمد شاہ، عبدالرحیم راتھر، محمد شفیع اوڑی، شریف الدین شارق، مبارک گل، جاوید احمد ڈار، کفیل الرحمن، محمد اکبر لون، نذیر احمد خان گریزی، عبدالمجید لارمی، شمیمہ فردوس، محمد سعید آخون ،میر سیف اللہ، سکینہ ایتو، شیخ اشفاق جبار، شیخ محمد رفیع، ڈاکٹر محمد شفیع ، ڈاکٹر بشیر احمد ویری، عرفان احمد شاہ، پیر آفاق احمد، غلام محی الدین میر، غلام قادر پردیسی، شوکت احمد میر، جگدیش سنگھ آزاد، غلام حسن راہی ، میر غلام رسول ناز ، نثار احمد نثار اورسبیہ قادری کے علاوہ کئی عہدیداران موجود تھے۔
Comments are closed.