کشمیر میں چینی سیاح کی موت انتہائی افسوسناک ، سیاحوں کی محفوظ نقل و حمل کو یقینی بنانا ضروری /مرکزی وزیر دفاع
عسکری صفوں میں مقامی نوجوانوں کی شرکت کیلئے فورسز کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا
سرینگر 08مئی: عسکریت کی طرف سے مقامی نوجوانوں کے بڑھتے رحجان کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر دفاع نے کہا کہ جموں کشمیر میں تعینات فورسز اہلکاروں کو اس معاملے کیلئے ذمہ دار ٹھہر ایا نہیں جا سکتا ۔اسی دوران انہوں نے کشمیر میں چنئی کے ایک سیاح کی موت کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ سیاحوں کی محفوظ نقل وحرکت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق نئی دہلی سینا بھون میں بحریائی کمانڈرس کانفرنس کے بعد میڈیا نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتارمن نے کہاکہ سلامتی دستوں کو جنگجوؤں کے ساتھ سخت ہونے کے لئے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگر وہ سخت ہورہے ہیں تو مسلح دستوں سے سوال نہیں کرسکتے۔ انہیں بھی عسکریت کے ساتھ سخت ہونا پڑے گا۔مرکزی وزیر دفاع نے کہا کہ کشمیر میں مقامی نوجوانوں کی طرف سے عسکریت کی طرف بڑھتے رجحان کو قابل تشویش قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی نوجوان اگر بندوق کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو اس کیلئے فورسز کو ذمہ دار ٹھہرایا نہیں جا سکتا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سنگین مسئلہ ہے جس پرکافی غور کرنے کی ضرورت ہے ۔سیاحوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلی محبوبہ مفتی نے بھی کہاکہ وہ کشمیر میں مزید سیاح آنے کیلئے وہ مشتاق ہیں۔ اس پر نرملا سیتارمن نے کہاکہ اگرپتھربازی میں ایک شخص کے زخمی ہونے کے بعد ہلاک ہوئے شخص کے بارے میں یہ کہا ہے تو یقینی طور پر وزیراعلی کا مشورہ درست نہیں ہے کہ انہیں مزید سیاحوں کی ضرورت ہے۔ وزیردفاع نے کہاکہ سیاح کے ساتھ جو ہوا وہ یقیناًبدقسمتی پر مبنی اور اس کو درست نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ مجھے نہیں معلوم ہے کہ کیا یہ دانستہ طور پر ہوا یا نادانستہ طور پرہوا لیکن یہ مکمل طور پر قابل مذمت ہے۔ واضح رہے کہ نارابل میں سیکورٹی فورسز اور احتجاجیوں کے درمیان ایک تصادم میں پتھر لگنے کے واقعے میں زخمی ہونے کے بعد چنئی کے آر تھرومانی زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔ وہ اپنے کنبے کے ساتھ ایک گاڑی میں سفر کررہے تھے اور وہ گلمرگ کے سری نگر اور کشمیر کے پریمئر ریزارٹ جارہے تھے۔
Comments are closed.