شوپیاں میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں زخمی کمسن لڑکا سرینگر میں دم توڑ بیٹھا
داچھو شوپیاں میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں 4افراد مضروب
سرینگر؍08؍مئی؍ْ شوپیاں میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں زخمی کمسن لڑکا صدر اسپتال سرینگر میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا۔ نوجوان کی نعش جونہی اُس کے آبائی گھر پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھروں سے باہر آئے اور احتجاجی مظاہرئے کئے۔ معلوم ہوا ہے کہ ناگہ بل کے نزدیک فوجی کیمپ میں تعینات اہلکاروں نے ایک دفعہ پھر مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولوں کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مزید چار افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا۔ مہلوک کمسن لڑکے کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس دوران رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ جے کے این ایس کے مطابق اتوار کے روز سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں زخمی نوجوان 17سال توصیف احمد بٹ ولد غلام حسن ساکنہ داچھو ناگہ بل شوپیاں صدر اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا۔ معلوم ہوا ہے کہ اتوار کے روز بادی گام شوپیاں میں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان تصادم کے دوران فورسز نے نوجوانوں پر راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں توصیف احمد کے جسم میں کئی گولیاں پیوست ہوئیں تھیں اور تین روز تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد نوجوان زندگی کی جنگ ہار گیا ۔ شوپیاں میں عام شہری کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی کشیدگی پھیل گئی اور لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے۔ نمائندے کے مطابق داچھو شوپیاں کے قریب پہلے سے تعینات سیکورٹی فورسز اور نوجوانوں کے درمیان آمنا سامنا ہوا جس دوران شدید جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ نمائندے کے مطابق تشدد پر اُتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے سیکورٹی فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ کی جس کی وجہ سے مزید چار نوجوانوں کے زخموں ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہے۔ نمائندے نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا اس دوران فورسز نے پلیٹ چھروں کا بھی استعمال کیا جس کی وجہ سے کئی افراد کو چوٹیں آئیں ہیں۔ دوپہر ایک بجے قریب مہلوک نوجوان کی نعش جونہی اُس کے آبائی گاؤں ناگہ بل پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھروں سے باہر آئے اور سیکورٹی فورسز و حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔ نمائندے کے مطابق لوگوں کی بھاری شرکت کے بیچ نوجوان کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس دوران ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔
Comments are closed.