تاریخی جامع مسجد سرینگر میں مقامی جنگجو کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ خانقاہ معلی سے لے کر نوہٹہ لوگوں کا اژدھام تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی
ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں جنگجو کو عید گاہ میں سپرد لحد کیا گیا , پورا شہر خاص اسلام و آزادی کے نعروں سے گونج اٹھا
ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کیلئے شہر خاص میں چار بجے سے قبل ہی بندشوں کو ہٹایا گیا
سرینگر؍05؍مئی؍ ؍ چھتہ بل میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں جاں بحق شہر خاص کے خانقاہ معلی سرینگر سے تعلق رکھنے والے جنگجو کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ تاریخی جامع مسجد سرینگر میں لوگوں کی تعداد کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا تھا کہ احاطے میں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی ۔ معلوم ہوا ہے کہ شہر سرینگر کے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی اور نوہٹہ سے پیدل عید گاہ کی طرف مارچ کیا جہاں پر ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں جنگجو کو سپرد لحد کیا گیا ۔ جے کے این ایس کے مطابق چھتہ بل سرینگر میں سیکورتی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں جاں بحق مقامی جنگجو فیاض احمد حمال ساکنہ خانقاہ معلی کی نعش سہ پہر چار بجے کے بعد لواحقین کے سپرد کی گئی ۔ نمائندے کے مطابق نعش کو لواحقین کے حوالے کرنے کے بعد پورے شہر خاص میں لوگوں کا اژدھام اُمڑ پڑا۔ نمائندے کے مطابق پانچ بجے کے قریب جنگجو کو جلوس کی صورت میں خانقاہ معلی سے تاریخی جامع مسجد نوہٹہ پہنچایا گیا جہاں پر پہلے سے ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے نے جنگجو کی نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ نمائندے کے مطابق شہر سرینگر کے دور افتادہ علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں نے جامع مسجد سرینگر میں مقامی جنگجو کی نماز جنازہ میں شرکت کی جس دوران جامع مسجد کے احاطے میں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی ۔ نمائندے کے مطابق تاریخی جامع مسجد کے لاوڈ سپیکروں پر اعلانات کئے گئے کہ لوگ گھروں سے باہر آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے خانقاہ معلی سے لے کر جامع مسجد نوہٹہ تک سروں کا سیلاب دیکھا گیا۔ نمائندے کے مطابق سبز ہلالی پرچم میں لپٹے مقامی جنگجو کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اُس کو کاندھوں پر اُٹھا کر عید گاہ پہنچایا اور وہاں پر جنگجو کی ایک اور نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ نمائندے کے مطابق تاریخی جامع مسجد سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے پیدل عید گاہ کی طرف پیش قدمی شروع کی جس دوران پورا شہر خاص اسلام و آزادی کے نعروں سے گونج اٹھا۔ نماز مغرب کے بعد جنگجو کو عید گاہ شہید قبرستان میں سپرد لحد کیا گیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ نوجوانوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کو ٹالنے کیلئے حکومت نے پہلے ہی سخت ترین ہدایات جاری کیں تھیں کہ جلوس جنازے میں روڑے نہ اٹکائے جائے ۔
Comments are closed.