صفا کدل کے قریب پولیس گاڑی نے نوجوان کو کچل ڈالا ۔ شہر خاص میں پُر تشدد جھڑپوں کے دوران متعدد افراد زخمی۔ سات پولیس اسٹیشنوں میں کرفیو کا نفاذ

چھتہ بل سرینگر میں طویل جھڑپ لشکر طیبہ کے 3جنگجوؤں کو مار گرانے کا دعویٰ ۔ ایک جنگجو خانقاہ معلی سرینگر کا رہنے والا ہے

سرینگر؍05؍مئی؍ ؍ چھتہ بل سرینگر میں عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان خونین معرکہ آرائی کے دوران تین جنگجو جاں بحق ، پُر تشدد مظاہروں کے دوران متعدد افراد زخمی ۔ رہائشی مکان میں محصور جنگجوؤں کے ابتدائی حملے میں کمانڈنٹ سمیت 5اہلکار زخمی ہوئے۔ صفا کدل کے نزدیک سیکورٹی فورسز گاڑی نے احتجاج کرنے والے نوجوان کو ٹکر مار کر موقعے پر ہی لقمہ اجل بنا دیا۔ شہر خاص کے راجوری کدل ، گوجوارہ ، حول ، صفا کدل ، نور باغ ، کاوڈارہ میں دن بھر مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ شہر خاص میں کسی بھی ناخوشگوارو اقعے کو ٹالنے کیلئے انتظامیہ نے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا ۔ پولیس ترجمان کے مطابق مارے گئے جنگجوؤں میں ایک شہر خاص کے علاقے فتح کدل خانقاہ معلی کا رہنے والا ہے جبکہ دو کی شناخت کیلئے کارروائی جاری ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد سنیچر نماز فجر سے قبل جونہی رام پور چھتہ بل کے علاقے کو محاصرے میں لے کر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا اس دوران رہائشی مکان میں محصور عسکریت پسندوں نے سیکورٹی فورسز پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں کمانڈنٹ سمیت 5اہلکار خون میں لت پت ہو گئے اور انہیں فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا اس دوران پیرا کمانڈوز اور ایس او جی کے اہلکاروں کو طلب کرکے رہائشی مکان میں محصور جنگجوؤں کو مار گرانے کیلئے کارروائی شروع کی گئی اور اس دوران رہائشی مکان پر راکٹوں کی بارش شروع کی گئی جس کے نتیجے میں مکان نے آگ پکڑ لی اور دیکھتے ہی دیکھتے رہائشی مکان خاکستر ہوا ۔ دوپہر بارہ بجے کے قریب سیکورٹی فورسز نے جھڑپ کی جگہ تین جنگجوؤں کی نعشیں برآمد کی اور اُن کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ۔ نمائندے کے مطابق چھتہ بل سرینگر میں عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ شروع ہونے کی خبر پھیلتے ہی شہر سرینگر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے چھتہ بل کی طرف پیش قدمی شروع کی جس دوران جگہ جگہ سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہوئیں۔ نمائندے کے مطابق شہر خاص کے نوا بازار ، حبہ کدل ، سیکہ ڈافر ، صفا کدل ، نور باغ ، راجوری کدل ، حول اور کاوڈارہ میں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور گاڑیوں پر پتھراو کیا جس کے ساتھ ہی پورے شہر خاص میں گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہو کر رہ گئی ۔ نمائندے کے مطابق صفا کدل کے قریب سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں کے دوران فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولوں کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں نور باغ ، قمر واری علاقوں میں خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا اور لوگ اپنے گھروں میں سہم کر رہ گئے۔ نمائندے کے مطابق صفا کدل کے نزدیک اُس وقت کہرام مچ گیا جب فورسز گاڑی نے نوجوان کو ٹائر کے نیچے کچل ڈالا جس کے نتیجے میں اُس کی موقعے پر ہی موت واقع ہوئی ۔ شہر خاص میں خبر پھیلتے ہی جھڑپوں میں شدت آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے شہر خاص میدان جنگ میں تبدیل ہوا۔ لوگوں کے تیور دیکھ کر انتظامیہ نے فوری طورپر شہر خاص میں کرفیو نافذ کرکے لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندی عائد کی تاہم اس کے باوجود بھی نوجوان چھتہ بل پہنچنے میں کامیاب ہوئے جس دوران شدید جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ نمائندے کے مطابق صدر اسپتال سرینگر میں اُس وقت سیکورٹی فورسز کو لاٹھی چارج اور ٹیر گیس شلنگ کرنی پڑی جب مہلوک نوجوان کی نعش کو جلوس کی صورت میں لیجانے کی کوشش کی اس دوران پولیس اہلکار حرکت میں آئے اور نعش کو اپنی تحویل میں لے کر پولیس کنٹرول روم سرینگر پہنچایا ۔ پولیس ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چھتہ بل سرینگر میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں تین ملی ٹینٹ ہلاک ہوئے جن میں سے ایک کی شناخت فیاض احمد حمال ساکنہ سرینگر کے بطور ہوئی ہے۔ اپریل 2017میں ملی ٹینٹ تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے سے پہلے فیاض احمد ملی ٹینٹ تنظیم کیلئے ایک فعال رکن کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔ مہلوک ملی ٹینٹ کے خلاف پہلے ہی ایف آئی آر زیر نمبر 83/2017زیر دفعہ 392آر پی سی ، 7/25آرمز ایکٹ کے تحت پولیس اسٹیشن ایم آر گنج سرینگر میں کیس درج تھا۔ مزید دو ملی ٹینٹوں کی شناخت کیلئے کارروائی شروع کی گئی ہے۔ جھڑپ کی جگہ اے کے 47رائفلیں، میگزین ، یو بی جی ایل ، یو بی جی ایل گرنیڈس ، گرنیڈس ، وائر کٹر ، طبی سامان اور میٹرک شیٹ برآمد ہوئے ۔مارے گئے ملی ٹینٹوں کے قبضے سے برآمد شدہ گولہ بارود اس بات کی اور اشارہ کر رہا ہے کہ گروپ میں شامل ملی ٹینٹ ایک بڑے حملے کو انجام دینے کی فراق میں تھے کہ اُسے قبل ہی سیکورٹی فورسز نے اُن کا یہ منصوبہ ناکام بنادیا۔ادھر نور باغ میں صبح سویرے ایک شخص عادل احمد یادو ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوا۔ اس ضمن میں پولیس اسٹیشن صفا کدل میں مختلف دفعات کے تحت کیس درج کرکے پولیس گاڑی اور ڈرائیور کے خلاف تحقیقات شروع کی گئی ہے ۔ علاوہ ازیں پلوامہ میں ملی ٹینٹ حملے میں زخمی ایس پی او کی حالت بدستور نازک بنی ہوئی ہے۔

Comments are closed.