وادی میں فی الوقت مطلوبہ لوازمات پورا کرنے والے صرف 102کوچنگ سینٹرس کو کئی شرائط پرکوچنگ کرنے کی دی اجازت

مذکورہ کوچنگ سینٹرس سکولی اوقات کار ختم ہونے کے ایک گھنٹے بعد کرسکتے ہیں کوچنگ؛ بیک وقت فیس کی وصولی پرلگا دی گئی روک

سرینگریکم مئی ۲۰۱۸:سرینگر، پلوامہ، شوپیاں، اننت ناگ ، بارہمولہ ، بڈگام اور کپواڑہ کے 102مطلوبہ لوازمات پورا کرنے والے کوچنگ سینٹرس کو چھوڑ کر باقی تمام کوچنگ اور ٹیوشن سینٹرس پر ۹۰ دن کی پابندی فی الحال جاری ہے ۔ ان باتوں کا اظہار ناظم تعلیم کشمیر ڈاکٹر جی این ایتو نے تمام متعلقین کے ساتھ ایک میٹنگ کے بعد کیا۔ اس سلسلے میں ناظم تعلیم کشمیر کی طرف سے باضابطہ ایک حکم نامہ جاری کیا گیا جس میں اِن 102کوچنگ سینٹرس کو کئی شرائط کے تحت کوچنگ کرنے کی اجازت دی گئی۔ حکم نامے کے مطابق مذکورہ کوچنگ سینٹر س سکولی اوقات کار ختم ہونے کے ایک گھنٹے کے بعد کوچنگ کرسکتے ہیں اور کوچنگ کے دوران پہلے ۱۵ منٹ کو اخلاقی تعلیم کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکم نامے کے مطابق آٹھویوں جماعت تک ٹیوشنگ ممنوع قرار دی گئی ہے اور parent-tutorمیٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ٹیوشن سینٹرس میں 75سے زیادہ طلباء اور کوچنگ کلاسز میں ۱۰۰ سے زیادہ طلباء کو رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ واضح رہے شرائط کے تحت مذکورہ کوچنگ سینٹرس کو بیک وقت فیس کی وصولی پر روک لگادی گئی ہے اور ساتھ ہی انہیں ہائی کورٹ کی تمام ہدایات پر من و عن عمل کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔

ناظم تعلیم کشمیر کے مطابق اِن کوچنگ سینٹرس کو تین دن کے اندر اندرمعروف اخبارات کے ذریعے فیس کی تفصیلات ، طالب علموں کے اندراج ،تدریسی عملے اور اُن کی تنخواہوں سے متعلق تفصیلات مشتہر کرنا ہوگی بصورت دیگر تساہُل پسند کوچنگ مراکز کو دوبارہ پابندی کے دائرے میں لایا جائے گا۔

Comments are closed.