وادی کے جنگلوں کا بڑے پیمانے پر کٹاو کی وجہ سے جنگلی جانور رہائشی علاقوں میں نمودار
قومی سرمایہ کو بڑے پیمانے پر تہیہ تیغ کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل لانے کی اشدضرورت
سرینگر؍یکم؍اپریل؍ ؍ گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگل اسمگلروں نے جس بے رحمی کے ساتھ کشمیر وادی کے جنگلوں کی کٹائی کی اس سے نہ صرف یہاں کے سرسبز وشاداب جنگل بڑی حد تک رنگ اخضری سے سجے پیڑوں سے محروم ہو گئے بلکہ ان جنگلوں میں رہنے والے جنگلی جانور وں نے بھی اپنے آشیانے کھو دئے جس کا ثمرہ یہ نکلا کہ جنگلی جانوروں نے بستیوں کا رخ کرکے انسانوں پر حملے شروع کردئے اور اب تک کئی قیمتی انسانی جانیں ان حملوں کی وجہ سے تلف ہوئیں اور درجنوں کی تعداد میں لوگوں کو زخمی ہونا پڑا۔ جے کے این ایس کے مطابق دو دہائی قبل وادی کے جنگلوں میں محدود پیمانے پر انسانی مداخلت اور آٹے میں نمک کے برابر پیڑوں کی کٹائی کے سبب یہاں کے جنگلات ہر سو ہرے بھرے نظر آتے تھے لوگوں کا ماننا ہے کہ قدرت کے اس حسین اور انمول تحفے کی حفاظت کیلئے نہ صرف محکمہ جنگلات کے اہلکار اپنے دن اور رات ایک کیا کرتے تھے بلکہ جنگلوں کے قریب رہائش پذیر لوگ بھی سبزسونے کو قومی سرمایہ سمجھ کر اس کے وجود کے ساتھ کسی کو کھلواڑ کرنے کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دیتے تھے ۔ مگر جنگلوں کی ہریالی کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی اور گزشتہ پچیس 26سال سے نامساعد حالات کی آڑ میں جنگل اسمگلروں نے جس بے دردی کے ساتھ جنگلوں کی کٹائی کا کام کیا اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ عوامی حلقوں کا مزید ماننا ہے کہ ایک طرف تو سبزسونے کو تہیہ تیغ کرنے سے وادی کے ہر ے بھرے پہاڑ بڑی حد تک مٹی کے ٹیلوں میں تبدیل ہو نے پر مجبور ہوئے تو وہی دوسری جانب جنگل کی زینت کہے جانے والے جنگلی جانوروں کو بھی اپنی ازلی آشیانوں کے کھونے کا غم ستانے لگا ۔ جنگلوں میں خوراک کی کمی کے باعث جنگلی جانوروں نے اپنی بھوک مٹانے کیلئے بستیوں کا رخ شرو ع کیا اور انسانوں کی چیر پھاڑ شروع کردی ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اب تک کئی لوگ ان کے حملوں کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے اور درجنوں کی تعداد میں زخمی ہو چکے ہیں۔ محکمہ جنگلی حیات نے اگر چہ بستیوں اور آنے والے جنگلی جانوروں کو قابو میں لانے کیلئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں تاہم افرادی قوت کی کمی کے باعث موثر کارروائی نہیں ہو پا رہی ہے تاکہ لوگوں کو جنگلی جانوروں کے حملوں سے محفوظ رکھا جاسکے۔ محکمہ وائلڈ لائف کے ایک اہلکار کے مطابق اگرمحکمہ ہذا میں تعینات ڈیلی ویجروں اور نیڈ بیس ورکروں کو وقت مقرر ہ کے اندر اندر اجرتیں واگزار کی جائیں گی تو کسی حد تک محکمہ کارکردگی میں سدھار آسکتا ہے ورنہ محکمہ میں سالوں سے تعینات عارضی ملازمین کی موجودگی کا فائدہ کس طرح سے اٹھایا جاسکتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ جنگلوں کو پھر سے سر سبز شاداب بنانے کیلئے مزید اقدامات اٹھائیں اور محکمہ جنگلات میں تعینات ایماندار اور فرض شناس ان اہلکاروں کی حوصلہ افزائی میں دیر نہ کریں جو تحفظ جنگلات کیلئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اسمگلروں کا مقابلہ کر رہے ہیں جبکہ اپنے کام سے مجرمانہ غفلت برتنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی تیز کرنے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔ علاوہ ازیں محکمہ جنگلی حیات میں تعینات ڈیلی ویجروں کو مستقل طور اور نیڈ بیس ورکروں کو ڈیلی ویجر بنانے کیلئے سرکار کو سنجیدگی کا مظاہرہ کر لینا چاہئے تاکہ افرادی قوت کی کمی کا سامنا محکمہ کو نہ رہے۔
Comments are closed.