حکومت وقت ہر سطح پر لوگوں کے مال و جان کے تحفظ کرنے میں بری طرح ناکام / علی محمد ساگر
وادی کے لوگ ہر سطح پر ظلم وستم کے شکار ، ریاست کے حالات ناگفتہ بہہ
سرینگر /29اپریل / ریاستی جموں وکشمیر کے موجودہ مخدوش حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے کہا کہ موجودہ پی ڈی پی اور جنگھ سنگھ سرکار نے کشمیری عوام کو تباہی اور بربادی کے دہانے پر پہنچایا ۔ ریاست کے لوگ ایک طرف بدترین اقتصادی اور معاشی بدحالی کے شکار ہوئے ہیں دوسری طرف گزشتہ چار سالوں سے ریاست میں سیاسی خلف شعاری بھی جاری ہے ۔ سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہرروز نوجوانوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہے صاف ظاہر ہے کہ ہمارے نوجوان پود کی نسل کشی ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کی جارہی ہے ۔ درجنوں مکانات زمین بوس کئے جارہیں صبح شام ہر سو کریک ڈاؤن جاری ، تھوڈ پھوڈ اور لوگوں پر بے تحاشا طاقت کا استعمال کی حد بھی پار کر چکی ہے ۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مکانوں پر گولی برسائی جارہی ہے اور انہیں مکمل طور پر زمین بھوس کیا جارہا ہے حالانکہ ان مکانات میں رہائش پذیر انتہائی کم پرسی حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان باتوں کا اظہار پارٹی کے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ علی محمد ساگر نے آج جنوبی کشمیر کے پہاڑی علاقہ دمحال ہانجی پورہ ، نور آباد کولگام میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے وزیر اعظم ہند شری مودی جی کا پیغام کہاں گیا ۔ جو انہوں نے آزادی ہند موقعے پر لال قلعہ دہلی میں کہا تھا کہ بات بنے گی گلے لگانے سے گولی سے نہیں لیکن اس کے بجائے یہاں کے کمسن بارہ ، تیرہ ، چودا سال کے نوجوان پود کو سرعام افساپا کے سائے تلے ہلاک کئے جارہے ہیں۔ کتنی معصوم اور بے گناہوں کو اب تک ابدی نید سویا گیا کتنے ہزار بچی ، بچیاں اپنی آنکھوں کی بینائی کھو دی ۔ کتنے ہزار جسمانی طور پر ناخیز ہوئے ، کتنے ہزار نوجوانوں پر پی ایس اے لگا کر ان کا مستقبل تاریخ کر دیا ۔ کیا یہی مودی جی کا پیغام تھا اور مرحوم مفتی محمد سعید صاحب جو وہ کہتے تھے بدلاؤ حالانکہ کشمیری عوام مرحوم مفتی صاحب کے سیاسی شاطرانہ طریقوں سے باخبر ہے اور جس کی مہربانی سے ریاست میں 1990 میں افسپا لگا کر قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا گیا ۔ ہزاروں بے نام قبرے اور گم نام قبرستان وجود میں آئے ۔ ایک گولی کا جواب سو گولی مفتی صاحب کا فرمان تھا ۔ شوٹ آن سائٹ بھی اس کا فرمان تھا ۔ تاریخ میں آج تک اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ جامع مسجد میں سٹھ ہفتوں میں نماز جمعہ پر قدغن لگا دی گئی ۔ حالانکہ عید کے روز بھی اس نا اہل اور کشمیردشمن خاتون وزیر اعلیٰ نے اقتدار کو بچانے کے لئے اور ناگپور آقاؤں کو ناراض نہ کر نے کے لئے ایسے اقدامات کئے ۔ کشمیری عوام کبھی بھی ایسے بدترین کشمیر دشمن عناصروں پی ڈی پی اور بی جے پی لوگوں کو معاف نہ کرے گے کیونکہ ان کا خفیہ ایجنڈا یہی ہے کہ ریاست کے لوگوں کے مذہب ، زبان اور علاقائی طور پر تقسیم کر نا ہے ۔ ریاست میں فرقہ پرستی عروج پر ہے آج جموں میں سرعام گوجر بستیوں کو خالی کیا جارہا ہے ، برما کے مظلوم اور محکوم روہنگا مسلمانوں کو مسلمان ہونے کی بنا پربے گھر کیا جارہا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ یہ بے غیر ت اور ضمیر فرو ش لوگ عوام کے پاس کیسے جاتے ہیں ان کو توبہ کرنا چاہئے اپنے بدترین اور سیاہ کارناموں پر ۔ انہوں نے کہا کیا بی جے پی اور پی ڈی پی کا ایجنڈا نہ تھا کہ ہندوستان اور پاکستان مل کر بات کرانے کی کوشش کی جائے گی ۔ حریت لیڈروں کے ساتھ بات چیت کی جائے گی اور حریت والوں کو بھی بات چیت میں شامل کیا جائے اور ان کو جیلوں سے رہا کیا جائے ۔ لیکن ایک دن ہی حریت لیڈروں کو جیلوں سے رہا کیا گیا اور دوسرے دن پھر جیل خانوں میں بند کردیا گیا ۔ اصل میں یہاں ناگپور سرکارکی حکمرانی ہے اوریہ قلم دوات والے دہلی جنگھ سنگھ سرکار بے ساکیوں پر کھڑی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیشنل کانفرنس ہی ہے جنہوںنے لوگوںکی بات اسمبلی اور دہلی والوں کے کانوں تک پہنچائی کہ کشمیر میں کس طرح پائیدار امن قائم ہوسکے وہ صرف اور صرف ہندوستان اور پاکستان کی مضبوط دوستی سے ہی اور مسئلہ کشمیر کے پائیہ دار حل سے ہی جس کی سہی ترجمانی نیشنل کانفرنس اور اس کے عظیم رہنماء اور محسن کشمیر مرحوم شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے اپنی پوری حیاتی میں انجام دی ۔ لیکن دہلی والے ہر وقت ہٹ دھرمی اختیار کر کے آج ریاست کو ہر سطح پر تباہی کے دھانے پر پہنچائے کشمیری عوام کو جی ایس ٹی لگا کر بے کار بنا دیا جس کی وجہ سے آج پورے کشمیر کے تاجر صنعت کار ، دکاندار بے روزگار بنائے دئے گئے اس کا ذمہ داری بھی یہی قلم دوات والے ہیں جس کا سابقہ وزیر خزانہ پوری طور پر ذمہ دار ہے اور جس کو نہایت بے عزیتی اور رسوائی کے ساتھ اقتدار سے محروم کر دیا گیا کیونکہ انہوں نے کشمیری عوام کے احساسات اور مفادات کا نیلام کر دیا اور ریاست کی مالی خود مختاری کو بھی ختم کر دی ۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ پی ڈی پی کا خود ساختہ نائب صدر سرتاج مدنی صاحب کہتے ہیں ابھی افسپا ہٹانا کا وقت نہیں صاف ظاہر ہے کہ وہ کشمیر کو پوری طرح آگ لگانے میں مصروف اور یہاں کی نسل کشی کرانے حامی نظر آتے ہے جو حد درج قابل افسوس اور مذمت حالانکہ تمام کشمیر ی لوگ افسپا کی مخالفت کرتے ہیں۔اصل میں ان کے ہی بہنوئی مرحوم مفتی صاحب نے افسپا لگا کر کشمیریوں کا خون ناحق بہایا۔ انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ شوپیان کے بے گناہ شہریوں کو قتل کیا گیا لیکن ان کے انصاف کے لئے ایف آئی آر درج کیا گیا لیکن کوئی سنوائی آج تک نہ ہوئی ۔ یہ لوگ نگے ہو گئے اور اب اقتدار بچانے کے لئے تگ دو میں لگے ہیں ۔ انہوں نے اپنے اقارب اور اپنے کارکنوں کو نوکریا ں فراہم کی جب کہ حق دارون کا حق چھینا گیا ۔ اس موقع پر پارٹی کے سینئر لیڈران ، سابق وزیر سکینہ ایتو ، ممبران قانون سازیہ علی محمد ڈار ، ایڈوکٹ عبدالمجید لارمی ، قیصر جمشید لون ، شوکت حسن گنائی ، سابق ایم ایل سی ڈاکٹر بشیر احمد ویری ، سبدر علی خان ، ایڈوکٹ ریاض خان ، ضلع صدر اننت ناگ ڈاکٹر محمد شفیع اور دیگر لیڈران بھی موجود تھے ۔ اس موقعے پر سابق سپیکر اور ماہر قانون دان خواجہ ولی محمد یتو کی والدہ محترمہ کو خراج عقیدت اور فاتحہ خوانی بھی کی گئی اور انہیں خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا۔ لیڈران نے اپنے خطابات میں کہا کہ وادی کشمیر فوج کے رحم وکرم پر چھوڑ دی گئی ۔ پورا جنوبی کشمیر تشدد کی آگ میں جل رہا ہے ، ہر روز نوجوانوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہے ۔ گویا وادی میں جنگل راج اور پوری وادی فوجی چھاونی میں تبدیل ہو گئی ہے ۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ کو کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ اس کے ہاتھ ملت کے نوجوانوں ، بزرگوں ، ماں بہنوں کے خون سے رنگے ہیں۔ مرحوم مفتی اور اس کی بیٹی موجودہ حالات کی پوری ذمہ دارہے۔ انہوں نے آٹھ سالہ آصفہ کو انصاف دینے میں جنگھ سنگھ لیڈران کی مداخلت افسوس ناک قرار دیا اور خبردار کیا کہ آگر آصفہ کے والدین کو انصاف نہ دیا گیا تو ریاست کے لوگ خرم امن کو آگ لگنے کا اندیشہ ہے
کشمیر اکنامک الائنس کی طرف سے شہر بچاو کانعرہ بلند وادی کشمیر فوج کے رحم وکرم پر چھوڑ دی گئی ۔ پورا جنوبی کشمیر تشدد کی آگ میں جل رہا ہے ، ہر روز نوجوانوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہے ۔ گویا وادی میں جنگل راج اور پوری وادی فوجی چھاونی میں تبدیل ہو گئی ہے ۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ کو کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ اس کے ہاتھ ملت کے نوجوانوں ، بزرگوں ، ماں بہنوں کے خون سے رنگے ہیں۔ مرحوم مفتی اور اس کی بیٹی موجودہ حالات کی پوری ذمہ دارہے۔ انہوں نے آٹھ سالہ آصفہ کو انصاف دینے میں جنگھ سنگھ لیڈران کی مداخلت افسوس ناک قرار دیا اور خبردار کیا کہ آگر آصفہ کے والدین کو انصاف نہ دیا گیا تو ریاست کے لوگ خرم امن کو آگ لگنے کا اندیشہ ہے
Comments are closed.