ہند پاک فوجی سربراہان کے بیانات
گھٹن کی فضا میں ہوا کا تازہ جھونکا

بھارت اور پاکستان کے فوجی سربراہان نے حال ہی میں ،ایک ہی دن ،تقریباً ایک ہی لہجے اور سر میں ، الفاظ کے معمولی سے ہیر پھیر کیساتھ ، مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کیلئے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا ۔آر پار فوجی قیادت کے یہ بیانات موجودہ حالات کے پیش نظر خاصی اہمیت کے حامل ہیں ۔ آج جب ہندو پاک کے درمیان ایک مدت سے کشیدگی زور پکڑ چکی ہے ،حتیٰ کہ کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحد پر جنگ جیسی صورتحال تک پیدا ہو چکی ہے ، اس بیچ یہ بیانات خوش آئند ہیں بشرطیکہ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت ، اپنے پارٹی مفادات کی عینک اتار کر ، اس کو ایک با قاعدہ عمل کی شکل دینے پر راضی ہو ں ۔ کشمیر پرچم کے مدیر اعلیٰ سید شجاعت بخاری کا تجزیہ
کیا یہ محض اتفاق تھا یا ایک کسی درپردہ کوشش کا نتیجہ کہ بھارت اور پاکستان کے فوجی سربراہان بیک وقت ایک ہی بات کہہ گئے۔ ہر چند کہ یہ ایک خوش کن فضا کا آغاز ہے لیکن جب بھارت کے فوجی سربراہ جنرل بپن راوت اور ان کے پاکستانی ہم منصب جنرل قمر جاوید باجوا نے کشمیر کے حوالے سے مذاکرات کی بات کی ، حیرانی اس میں ہے کہ دونوں نے ایک ہی دن یعنی15پریل کو ان خیالات کا اظہار کیا ۔ گوکہ الفاظ کا انتخاب جُداگانہ تھا لیکن جو پیغام دونوں سربراہان نے دیا وہ ایک ہی تھا کہ صرف مذاکرات ہی کشمیر کے مسئلے کا حل ہیں۔
جہاں جنرل راوت نے دہلی میں جموں کشمیر لائٹ انفرنٹری کے70ویں یومِ تاسیس پر کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب دونوں، فوج اور عسکریت پسند، اس نتیجے پر پہنچیں جائیں گے کہ وہ تشدد کے ذریعے ا پنا مقصد حاصل نہیں کرپائیں گے اور’’ہمیں ایک ساتھ مل کر امن کا راستہ ڈھونڈنا چاہئے اور اس میں کامیاب ہو جائیں گے‘‘۔ اگر چہ جنرل راوت نے براہ راست مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی بات نہیں کی مگر ان کا اشارہ واضح تھا کہ کشمیر میں جاری تشدد سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اسی طرح جنرل باجوا نے کاکُل کے مقام پر پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کیڈیٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارا یقین ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سمیت تمام تنازعوں کے پُر امن حل کا راستہ جامع اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے اور پاکستان اس کے لئے وعدہ بند ہے‘‘۔
یہ دونوں بیانات ایک اہم موقعہ پر آئے ہیں جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے۔ پچھلے کئی مہینوں سے سرحد کے دونوں طرف سے گولہ باری سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے بلکہ کئی جانیں بھی تلف ہوئیں۔ اس کے علاوہ سفارتی سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان حالات اس قدرت ٹھیک نہیں ہیں۔ جہاں تک کشمیر کے اندرونی حالات کا تعلق ہے وہ بھی انتہائی کشید ہ ہیں اور نئی دہلی کی حکومت لوگوں کے سیاسی جذبات کچلنے کے لئے ہر ایک قسم کے حربے استعمال کر رہی ہے۔ ایسے پچھلے ایام میں کئی عام شہریوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں اور عام لوگوں کے مارنے کے لئے جواز بھی پیدا کیا جارہا ہے۔وزارت داخلہ کی تازہ سالانہ رپورٹ کے مطابق 2017میں جموں وکشمیر میں گزشتہ سال کے مقابلے شہری ہلاکتوں میں 166فی صد اضافہ ہوا جبکہ عسکریت پسندوں کی اموات کی شرح میں 42فیصد اضافہ ہوا۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق ریاست میں 1990میں عسکریت کے آغاز سے لے کر 31دسمبر2017تک 13,976شہری اور5,123فورسز اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ رپورٹ میں تشدد کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سال 2017میں 342تشدد کے واقعات رونما ہوئے جن میں80فورسز اہلکار ،40شہری اور213جنگجو مارے گئے ہیں ۔ اس مقابلے میں2016میں ایسے واقعات کی تعداد322تھی جن میں82فورسز اہلکار ،15شہری اور150جنگجو مارے گئے تھے ۔ رپورٹ کے مطابق فورسز اہلکاروں کی اموات کی شرح میں2.44فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔ مذکورہ رپورٹ میں وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ 2016میں پاکستان کی طرف سے دراندازی کی 371 کوشیں انجام دی گئیں جبکہ2017میں ان کوششوں کی تعداد406تھی ۔ تاہم 2016میں 119درانداز اس طرف گھسنے میں کامیاب ہوئے تھے جبکہ2017میں ان کی تعداد123بتائی گئی ہے ۔
اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو جنرل راوت کا بیان سمجھنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آسکتی۔ اُنہیں شاید اس بات کا احساس ہونے لگا ہے کہ کشمیر میں عام لوگوں کے مارنے سے امن قائم نہیں ہوسکتااور عسکریت پسندوں کو مارنے کے لئے وہ عام شہریوں کو نہیں مارسکتے کیونکہ جس طرح سے انہیں بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا ہے اس سے بھارت نبردآزما نہیں ہوسکتا۔ جنرل راوت نے فوجی سربراہ کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے کشمیر میں کئی عہدوں پر کام کیا ہے۔ وہ سوپور کے قریب وٹلب میں ایک برگیڈ کی قیادت بھی کرچُکے ہیں اورا س کے بعد بارہ مولہ میں اُنہوں نے ایک ڈیوژن کی کمان بھی سنبھالی۔ اُنہیں یہ بخوبی معلوم ہوگا کہ کشمیر کا مسئلہ روزگار کا مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی آبرو مندی کا ہے جسکا حل صرف سیاسی ہے۔ لیکن جب جنرل راوت نے فوجی سربراہ کا عہدہ سنبھالا اسکے بعد ایک مختلف راوت دیکھنے کو ملا۔ اُنہوں نے ایسے کئی بیانات دیئے جن سے نہ صرف کشمیر کے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے بلکہ وہ شدید تنقید کا نشانہ بھی بنے۔ اُنہوں نے فروری2017 کو ایک بیان میں کہا کہ جو لوگ عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن میں رُکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کریں گے اُنہیں قوم دشمن تصور کیا جائے گا اور اسی اعتبار سے اُن کے ساتھ نپٹا بھی جائے گا۔ اُنہوں نے پچھلے تین سال کے دوران خالصتاً فوجی زبان کا استعمال کیا اور کشمیر کے اندر بھی جو سخت گیر پالیسی اپنائی گئی وہ بھی ایسے ہی نظریہ کا نتیجہ تھی۔ در اصل جنرل راوت نئی دہلی میں قائم بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومت کے نقطہ60 نظرکو آگے بڑھا رہی ہے اور وہ طاقت کے بل بوتے پر کشمیر کی سیاسی تحریک کو دبانے کی پالیسی ہے۔لیکن 15؍ اپریل کے اس تقریر سے لگتا ہے کہ شاید دہلی کی حکومت اور فوج کو بھی اس بات کا احساس ہورہا ہے کہ کشمیریوں کو مارنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔ پچھلے سو دنوں میں 90لوگ مارے گئے ہیں جن میں زیادہ تر عسکریت پسند شامل ہیں۔ فوج کے سامنے سب بڑا چیلینج جو ہے وہ عام لوگوں کا عسکریت پسندوں کے تئیں والہانہ عقیدت کو توڑنا ہے۔ کولگام میں حال ہی میں جب عسکریت پسند گھیرے میں آگئے تو انہیں عام لوگوں نے بھاگنے میں مدد کی لیکن اس کے لئے چار عام شہریوں کو اپنی جان گنوانی پڑی جو کہ بہت بڑی بد قسمتی ہے۔ اس طرح سے عام شہری عسکریت پسندوں کو بچانے کے لئے اتنی بڑی قیمت دینے سے احتراز نہیں کرتے جو کہ واقعی ایک بڑے چیلنج سے کم نہیں۔ کیا جنرل راوت کے اس بیان کو نئی دہلی کی سیاسی لیڈرشپ اسی جذبے کے ساتھ لے گی جس کا اس میں اظہار کیا گیا ہے۔ یا تو جنرل اپنی سوچ کے مطابق عسکریت پسندوں کے ساتھ امن کی بات کر رہے ہیں یا اس کے پیچھے کوئی اور چیزمحرک بنی ہوئی ہے۔
دوسری طرف سے جنرل باجوا کی یہ خواہش کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے، بھی اہم اور حوصلہ افزا ہے۔ پاکستان کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہاں حکومتی معاملوں میں فوج کا کافی عمل دخل ہے اور بھارت یا کشمیر جیسے معاملوں میں فوج کی گرفت بھی ایک مانی ہوئی حقیقت ہے۔ جس طرح سے پہلے ہی ذکر ہوا کہ اس وقت کشمیر ایک انتہائی کشیدہ ماحول سے گزر رہا ہے اور پاکستان کے لئے اس صورتحال کو اور ’’ہوا دینے ‘‘ کی پالیسی ایک فطری امر ہے۔ کیونکہ جس انداز سے کشمیری عوام نے سیاسی تحریک کے ساتھ اپنے آپ کو جوڑے رکھا ہے اور نوجوانوں میں جو غم و غصہ پایا جا رہا ہے ایسا کبھی نہیں دیکھنے کو ملا ہے۔ لیکن جنرل باجوا کا یہ بیان ایسی پالیسی کی عکاسی نہیں کر رہا ہے اور جیسا کہا جاتا ہے کہ پاکستان کو کشمیرمیں تشدد پھیلانے سے بڑا فائدہ ہے، اس تاثر کی بھی اس بیان میں نفی ہو تی ہے۔جنرل باجوا کے ان خیالات سے شاید عسکری تنظیمیں بھی حوصلہ شکنی کی شکار ہوسکتی ہیں۔ اگر چہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں میں ایک مضبوط طبقہ بھارت مخالف تشدد کا حامی ہے اور اُن کا ماننا ہے کہ اس کے بغیر کوئی اور راستہ نہیں ۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو تشدد سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا ہے اور نہ ہی دونوں ملکوں کے درمیان جنگوں سے۔ لیکن جنرل باجوا کا یہ بیان ایک اہم پیغام بھیجنے کی کوشش ہے اور ۔۔۔یہ دونوں بیان محض اتفاق نہیں بلکہ کسی نہ کسی سطح پر کام کیا گیا معلوم ہوتا ہے۔
ہر چند کہ دونوں فوجی سربراہوں کے یہ بیانات بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدہ حالات میں ایک اُمید جگا سکتے ہیں لیکن ان کو اور سود مند بنانے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں ملکوں میں سیاسی استحکام ہو اور ایسی حکومتیں ہوں جو اس عمل کو آگے بڑھاسکیں۔ ایسا دیکھنے میں نہیں آرہا ہے کیونکہ جہاں پاکستان میں بھی اگلے چند مہینوں میں انتخابات ہونے والے ہیں وہیں بھارت میں بھی ایک طرح سے انتخابات کا بِگُل بج چُکا ہے۔ پاکستان میں سیاسی طورعدم استحکام کافی دیر سے موجود ہے اور یہ کہنا مشکل ہوگا کہ آیا ایسی حکومت بر سر اقتدار آئے گی جو پوری طرح کشمیر جیسے پیچیدہ مسئلے کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کر سکے گی۔ پاکستان میں پائے جانے والے ماحو ل سے لگتا ہے کہ شاید یہ کوئی نئی عمل ہے اور اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ جنرل باجوا کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ مذاکرات کے حامی ہیں تو پھر بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں استواری کا عمل شروع کیوں نہیں ہوا۔ اس کے لئے بھارت میں موجود حکومت کی پالیسی بھی کسی حد تک ذمہ دار ہے۔ اب چونکہ بھارت میں بھی 2019میں انتخابات منعقد ہونے والے ہیں، بی جے پی پاکستان کو سبق سکھانے کا کارڈ اور کشمیر میں سخت گیر پالیسی کو اپنے ووٹ بینک کو بچانے کے لئے استعمال کرسکتی ہے۔ اس صورت میں کوئی ایسی پہل نا ممکن ہے جس سے ان دو جنرلوں کے بیانات کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے ۔ لیکن ایک بات ضروری ہے کہ جنرل راوت نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ دونوں طرف کی بندوقوں سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا اور اسی لئے بزرگ علیحدگی پسند لیڈر سید علی گیلانی نے ان کے بیان کو ایک اخلاقی کامیابی(Moral victory) سے تعبیر کیا ہے۔ جہاں دلی کو جنرل باجوا کے بیان کو مثبت انداز میں لینا چاہئے، وہیں اسلام آباد کو بھی چاہئے کہ اس ماحول کو سازگار بنانے میں اپنا کردا نبھائے۔
Comments are closed.