پولیس کانسٹبل کا بیٹا عابد مقبول انجینئر بننے کے بجائے عسکری صفوں میں شامل ہوا
ذہین طالب علم ہونے کے علاوہ اپنے علاقے کا تیز گیند باز بھی تھا /مقامی لوگ
سرینگر/25 اپریل/سی این آئی ترال کے لام جنگلات میں فورسز کے درمیان جھڑپ میں جاں بحق پولیس کانسٹبل کا 19سالہ بیٹا سرینگر کے پالی ٹکنک کالج میں انجینئرنگ طالب علم تھا اور وہ گزشتہ ماہ ہی جنگجوؤں کے صفوں میں شامل ہو گیا تھا ۔ سی این آئی نمائندے بشارت رشید نے اس ضمن میں اطلاع دی ہے کہ 19سالہ عابد مقبول پولیس کانسٹبل محمو مقبول کا بیٹا تھا اور وہ خان گنڈ ترال علاقے کی ایک اچھے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا ۔ عابد مقبول کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس کے گھر میں دو بڑے بھائی اور والدین ہے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق عابد اپنے گاؤں کے 6جنگجوؤں میں سے ایک تھا جو مختلف عسکری تنظیموں سے وابستہ تھے اور فورسز کے ساتھ مختلف جھڑپوں میں جاں بحق ہو گئے ہیں ۔ عابد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ مارچ ماہ میں وہ گھر سے لاپتہ ہو گیا تھا جس کے بعد اسکی رائفل سمیت اس کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گی تھی جس سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ عابد نے جنگجوؤں کے صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے ۔عابد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ذہین طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا کرکٹر تھا جو اپنی تیز گیند بازی کیلئے علاقہ میں مشہور تھا ۔تاہم انجینئر بننے کے خواب کے بیچ عابد جنگجو ؤں کے صفوں میں شامل ہو کر عساکر بن گیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ عابد مقبول کا نماز جنازہ چار مرتبہ ادا کیا گیا جس کے بعد اسکو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا ۔
Comments are closed.