کھٹوعہ میں متاثرہ کنبے کی وکیل کو دھمکانے کا معاملہ ، سپریم کورٹ میں ہوئی سماعت
جموں بار ایسوسی ایشن نے کہا متاثرہ کے وکیل پر نہیں کیا گیا حملہ ، اگلی سماعت 26اپریل کو
سرینگر/25 اپریل/ کٹھوعہ معاملے میں جموں کی وکیل کو دھمکانے سے صاف انکار کرتے ہوئے جموں بار ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ میں جواب داخل کر دیا ہے. بار ایسوسی ایشن نے اپنے حلف نامہ میں متاثرہ کے وکیل پر دیگر وکلاء کی طرف سے حملہ اور دھمکانے سے انکار کیا ہے۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق سپریم کورٹ میں کھٹوعہ معاملے کی بدھ کو ایک بار سماعت ہوئی جس دوران جموں بار ایسوسی ایشن نے کھٹوعہ کی معصوم بچی کے کیس کی پیروی کرنی والی وکیل کو دھمکانے اور ڈرانے سے صاف انکار کیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت 25اپریل کو مقرر کی تھی جس دوران بار ایسوسی ایشن جموں سے کہا گیا تھا کہ وہ اس معاملے میں اپنا جواب داخل کرے ۔معلوم ہوا ہے کہ جموں بار ایسوسی ایشن نے اس معاملے میں اپنا جواب داخل کیا جس دوران انہوں نے متاثرہ کی وکیل کی طرف سے لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد اور غلط طور پر بتایا ہے۔ایسوسی ایشن نے ساتھ ہی پورے معاملے میں میڈیا کے کردار پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں غلط طریقے سے عصمت دری کرنے والے ملزمان کے تئیں ہمدردی رکھنے والے کے طور پر دکھایا گیا۔ اس معاملے میں اگلی سماعت 26 اپریل کو ہوگی۔اس سے پہلے سماعت میں جموں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ کٹھوعہ اجتماعی عصمت دری اور قتل کیس کے سلسلے میں وکلاء کے احتجاج کی اس نے حمایت نہیں کی تھی ۔ بار کونسل آف انڈیا نے چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس دھننجے وائی چندرچوڑ کی پنچ سے کہا تھا کہ اس نے ہائی کورٹ کے سابق جج کی سربراہی میں ایک ٹیم قائم کی ہے جو کٹھوعہ جاکر وکلاء کے احتجاج سے متعلق صورتحال کا جائزہ لے گا۔ وہیں کٹھوا ضلع بار ایسوسی ایشن نے بنچ سے کہا تھا کہ اس نے پہلے ہی 12 اپریل کو اپنی ہڑتال واپس لے لی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ شعیب عالم نے مقتول کے والد کی درخواست کووکیلوں کے احتجاج کا از خود نوٹس لینے سے متعلق کیس کے ساتھ ای این سوٹ کرنے کی مخالفت کی تھی۔ متاثرہ کے والد نے اس معاملے کو کٹھوعہ سے چندی گڑھ منتقل کرنے کی درخواست کرتے ہوئے عرضی دائر کی ہے۔
Comments are closed.