بیساکھی میلہ کے موقع پر دو بھارتی شہریوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات

بھاارتی سکھ یاتریوں کے ہمراہ دیگر مذاہب کے لوگوں کی پاکستان آمد پر پابندی

سرینگر/25 اپریل: پاکستان نے بھارت سے مذہبی رسومات ادا کرنے آنے والے سکھ یاتریوں کے جتھوں کے ساتھ دیگرمذاہب کے لوگوں کے پاکستان آنے پر پابندی لگادی ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق متروکہ وقف املاک بورڈنے مذہبی رسومات اداکرنے کے لئے پاکستان آنیوالے سکھ یاتریوں کے جتھوں کے ساتھ مسلمان ، ہندواورعیسائی یاتریوں کے داخلے پرپابندی لگادی ہے، ہندویاتری اپنے مذہبی تہواروں پرہی پاکستان آسکیں گے ،متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام کے مطابق یہ فیصلہ بیساکھی میلہ کے موقع پر دو بھارتی شہریوں کیلاپتا ہونے کے واقعات کے بعد کیا گیا ہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 12 اپریل کو آنے والے سکھ یاتریوں میں 2 مسیحی ، ہندو اورمسلمان بھی تھے، پاکستانی نوجوان سے شادی کرنے والی نو مسلم خاتون درحقیقت ہندو جب کہ گزشتہ روز ڈی پورٹ کیا گیا امرجیت موناسکھ ہے۔متروکہ وقف املاک بورڈ کیڈپٹی سیکرٹری شرائنزعمران گوندل کے مطابق بھارت کی شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی سکھ یاتریوں کی فہرستیں اورپاسپورٹ متروکہ وقف املاک بورڈکو بھیجنے کی بجائے براہ راست وزارت داخلہ کوبھیجتی ہے جس کی وجہ سے یاتریوں کی تصدیق نہیں ہوپاتی، پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے بھی اس معاملہ پر شدید احتجاج کیا ہے کہ ان کی مذہبی رسومات میں دیگرمذاہب کے افراد کیوں شریک ہوتے ہیں، شرومنی گوردوارہ پر بندھک کمیٹی پرواضع کردیا گیا ہے کہ آئندہ یاتریوں کی فہرست کی ایک کاپی متروکہ وقف املاک بورڈکوبھی فراہم کی جائیگی۔دوسری جانب امرتسرمیں شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے رہنما سردارراجیندرسنگھ نے ایکسپریس نیوزسے ٹیلی فون پربات کرتے ہوئے بتایا کہ شرومنی گوردرواہ پربندھک کمیٹی یاتراکے خواہش مندسکھوں کی درخواستیں تصدیق کے لئے مرکزی اور ریاستی حکومت کو بھیجتی ہیں،حساس اداروں کی تصدیق کے بعد ویزے اپلائی کیے جاتے ہیں۔

Comments are closed.