نریندر مودی کو وہی صلاح ماننی چاہئے جو کسی دورے میں وہ مجھے دیتے تھے/ڈاکٹر منموہن سنگھ

کھٹوعہ معاملہ ،مجھے خوشی ہے وزیر اعظم مودی نے آخرکار خاموشی توڑی

سرینگر/18 اپریل / جموں کے کھٹوعہ اور اناؤ میں معصوم بچیوں کی عصمت دری کے بعد قتل کے معاملے پر سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے نریندر مودی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ انہیں ضروری مسائل پر زیادہ بولنا چاہئے۔سی این آئی مانیٹر نگ کے مطابق بھارت کے سابق وزیر اعظم اور کانگریس کے سنیئر لیڈر ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کھٹوعہ میں پیش آئے واقعہ پر وزیر اعظم ہند نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ،”پی ایم مودی کو وہی صلاح ماننی چاہئے جو کسی دورے میں وہ مجھے دیتے تھے”۔انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کو دئے انٹرویو میں منموہن سنگھ نے کہا ،”مجھے خوشی ہے کہ وزیر اعظم مودی نے آخرکار خاموشی توڑی۔مجھے لگتا ہے کہ پی ایم کو اپنی صلاح ماننی چاہئے۔میڈیا کے ذریعے مجھے جانکاری ملی تھی کہ کم بولنے پر وہ میری تنقید کرتے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ جو صلاح انہوں نے مجھے دی تھی وہی انہیں فالو کرنی چاہئے”۔منموہن سنگھ نے کہا کہ ضروری مسائل پر مودی کی خاموشی سے لوگوں میں یہ یقین مضبوط ہوگا کہ وہ کسی بھی جرائم سے بچ جائیں گے۔انہوں نے کہا،”مجھے لگتا ہے کہ انتظامیہ میں موجود لوگوں کو وقت پر بولنا چاہئے۔غور طلب ہے کہ کٹھوعہ ریپ اور اناؤ ریپ کے واقعے پر پی ایم نے جمعہ کو کہا کہ قصورواروں کو بخشا نہیں جا ئے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیٹیوں کو انصاف ضرور ملے گا۔پی ایم نے کہا تھا ،”گزشتہ دو دنوں سے جن واقعات کی چرچہ ہو رہی ہے۔وہ سول سوسائٹی کا حصہ نہیں ہو سکتی۔ایک قوم اور ایک سماج کے طور پر، ہم سبھی شرمندہ ہیں۔میں ہم وطنوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ کسی بھی مجرم کو بخشا نہیں جائے گا اور انصاف ملے گا۔ہماری بیٹیوں کو انصاف ضرور ملے گا۔اس سے ایک دن پہلے کانگریس صدر راہل گاندھی نے پی ایم سے خاموشی توڑنے کی اپیل کی تھی۔راہل گاندھی نے کہا تھا کہ پورا ملک ان کے بولنے کا انتظار کر رہا ہے۔جمعرات کی رات کو راہل گاندھی نے دہلی کے انڈیا گیٹ پر کینڈل مارچ نکال کر اناؤ اور کٹھوعہ کے واقعے پر مخالفت درج کروائی۔

Comments are closed.