معصوم آصفہ کے قاتلوں کو سز ا دینے کی مانگ ، شمال و جنوب میں تعلیمی اداروں میں تشدد بھڑک اٹھا

احتجاجی طالب اور فورسز کے مابین پُر تشدد جھڑپیں ،ٹیر گیس شلنگ ، کئی پولیس افسروں سمیت درجنوں طلبہ مضروب ، کئی ایک پر غش طاری

سرینگر/18 اپریل / کھٹوعہ کی معصوم آصفہ کے قاتلوں کو سز ا موت دینے اور متاثرین کو انصاف فراہم کرانے کے حق میں بدھ کوسرینگر سمیت وادی کے شمال و جنوب میں طلبہ کے احتجاجی مظاہروں کے بیچ فورسز اور احتجاجی طلبہ کے درمیان پُر تشدد جھڑپوں اوت ٹیر گیس شلنگ میں کئی پولیس افسروں سمیت درجنوں طلبہ زخمی ہو گئے جبکہ کئی ایک پر غش طاری ہوئی ۔ اسی دوران طلبہ کے پُر تشدد احتجاجی مظاہروں کے بعد جنوبی ضلع پلوامہ اور اننت ناگ میں موبائیل ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ محدود کر دیا گیا ۔ اسی دوران وادی سیاسی ، سماجی اور دیگر انجمنوں کی طرف سے کھٹوعہ معاملے کو لیکر احتجاجی مظاہرئے ہوئے جس دوران انہوں نے قاتلوں کو سز ا سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔ سی این آئی کے مطابق طلبہ کے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر اگرچہ انتظامیہ نے کئی کالجوں اور ہائیر اسکنڈری اسکولوں میں آج درس و تدریس کا کام معطل رکھنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے باوجود بدھ کی صبح درجنوں تعلیمی اداروں میں اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب کالجوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہونے کے ساتھ ہی طلباء طالبات نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرکے احتجاجی مظاہرئے شروع کئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ ضلع اننت ناگ میں بدھ کو اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب زنانہ کالج اننت ناگ میں زیر تعلیم طالبات نے کالج احاطے میں احتجاجی مظاہرئے شروع کئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ قصبے میں ا س وقت حالات کشیدہ ہو گئے جب ڈگری کالج میں زیر تعلیم درجنوں طالبات نے ایک مرتبہ پھر احتجاجی مظاہرئے شروع کئے جس دوران وہاں تعینات فورسز اہلکاروں اور احتجاجی طلبہ میں جھڑپیں شروع ہوئی ۔ اسی دوران فورسز نے احتجاجی طلبہ کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کا استعمال کیا ۔بتایا جاتا ہے کہ احتجاجی طلبہ اور فورسز کے مابین جھڑپوں میں نصف درجن طلبہ زخمی ہو گئے۔۔ادھر ضلع پلوامہ میں بھی اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب گورئمنٹ ڈگری کالج پلوامہ میں زیر تعلیم طالبات کی بڑی تعداد نے کھٹوعہ میں معصوم آصفہ کو انصاف فراہم کرانے کے حق میں احتجاجی ریلی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ریلی میں شامل طلبا و طالبات آصفہ کو انصاف فراہم کروں ، قاتلوں کو پھانسی دو کے نعرہ بلند کر رہے تھے جس کے بعد انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ کے دفتر کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی تاہم قصبے میں تعینات فورسز اہلکاروں نے ان کا راستہ روک لیا جس پر وہ مشتعل ہوئے اور انہوں نے فورسز پر سنگبازی کی جس کے جواب میں فورسز نے مشتعل طلبہ کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور ٹیر گیس شلنگ کا استعمال کیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ احتجاجی طلبہ اور فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران پُر تشدد جھڑپوں کا سلسلہ مین چوک پلوامہ تک پہنچ گیا جس دوران علاقے میں دن بھر حالات انتہائی کشیدہ تھے ۔۔ادھر ترال سے ملی اطلاعات کے مطابق طلبہ کی بڑی تعداد نے احتجاجی ریلی نکالی جس دوران انہوں نے طلبہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرکے ا حتجاجی مظاہرے شروع کئے جس دوران مظاہرین نے اسلام وآزادی کے حق میں نعرہ باز ی کی ۔نمائندے نے عین شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ احتجاجی طلبہ جنہوں نے ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم اُٹھائے تھے مطالبہ کر رہے تھے آصفہ کے قاتلوں کو پھانسی دی جائے اور متاثرہ کنبے کو انصاف فراہم کیا جائے ۔معلو م ہوا ہے کہ اسی دوران فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی جس دوران فورسز نے احتجاجی طلبہ کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کی جس کے نتیجے میں درجنوں طلبہ پر غش طاری ہوئی جبکہ کئی ایک کو چوٹیں بھی آئی ۔ اسی دوران اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں بھی زیر تعلیم طلبہ و طالبات نے کھٹوعہ معاملے کو لیکر احتجاجی مظاہرئے کئے جس دوران انہوں نے اسلام و آذادی کے حق میں نعرہ بازی کرنے کے علاوہ ملوثین کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ یونیورسٹی میں حالات میں اس وقت کشیدہ ہو گئے جب احتجاجی طلبہ نے سرینگر جموں شاہراہ پر دھرنا دینے کی کوشش کی جس دوران فورسز نے ان کا راستہ روک لیا جس پر وہ مشتعل ہوئے اور انہوں نے فورسز پر سنگبازی بازی کی جس کے جواب میں فورسز اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں ہوئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا جس دوران دو پولیس افسروں سمیت کئی پولیس اہلکار زخمی ہو گئے جبکہ کئی احتجاجی طلبہ بھی زخمی ہو گئے ۔ اسی دوران گاندربل سے بھی نمائندے نے اطلاع دی کہ ڈگری کالج گاندربل میں معصوم آصفہ کے انصاف کے حق میں طلبہ نے احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران فورسز اور احتجاجی طلبہ کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں ہوئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور احتجاجی طلبہ کے درمیان جھڑپوں میں کئی طلبہ زخمی ہو گئے ہیں ۔ ادھر سرسرینگر میں بھی لا کالج میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات نے احتجاجی مظاہرئے کئے جس دوران انہوں نے معصوم آصفہ کو انصاف فراہم کرانے کا مطالبہ کیا ۔ احتجاجی طلبہ نے ہاتھوں میں پلے کار ڈ تھے، جن پر آصفہ کے مجرموں کو سزائے موت دینے کے مطالبے کو لیکر تحریریں درج تھیں۔ اسی دوران وادی کشمیر کے دوسرے علاقوں کے علاوہ بیرون ریاستوں کے مختلف مقامات پر لوگوں نے معصوم آصفہ کے قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے متاثرین کو انصاف فراہم کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ادھر کٹھوعہ اور اب مؤ ضلع میں ہوئی عصمت دری کے واقعات نے لوگوں کو جھجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ جس کے بعد مؤ کے لوگوں نے بیداری پھیلانے کے لئے کینڈل مارچ کو بڑھا وادیا۔واضح رہے کہ اس بیداری ریلی میں سیکڑوں کی تعداد میں لوگ ذات سے اوپراٹھ کر مذہب کو بڑھانے سے بیداری ریلی نکالی۔ انہوں نے فوجی دروازے سے جلوس کو نکال کر بال نکیتن موڑ پرکینڈ ل مارچ ختم کیا۔وہیں لوگوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں عصمت دری کے واقعات دن بدن بڑھتے ہی جارہے ہیں اور معاشرے میں بیداری کو فروغ دینے کے لئے کینڈل مارچ نکال رہے ہیں۔آج یہاں کوئی بھی مذہب اور ذات کے بارے میں بات کرنے کے لئے نہیں آیا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ عصمت دری اورعصمت دری کرنے والوں کے خاتمے کے لئے یہ بیداری ریلی نکالی گئی ہے۔جو حیوان ا س طرح کے واقعات کو انجام دے کر معاشرے میں لوگوں کو ڈرارہے ہیں انہیں پھانسی ہونی چاہئے۔ایک پر ایک قانون بننا چاہئے تاکہ کسی بھی شخص عصمت دری جیسے گھناؤنے واقعات کو انجام دینے سے سوچ سکے۔

Comments are closed.