بارہمولہ میں دوشیزہ کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی اور ویڈیو بنانے کے الزام میں دو افراد گرفتار/ ایس ایس پی

رپورٹ : مجیدی شیری

شمالی ضلع بارہمولہ میں پولیس نے ایک دوشیزہ کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کرنے اور اس واقعے کی ویڈیو بنانے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق معاملے کی تحقیقات کے دوران تکنیکی شواہد اور انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو بروئے کار لاتے ہوئے دونوں ملزمان کی شناخت کرکے انہیں حراست میں لیا گیا۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) بارہمولہ گ±رندر پال سنگھ نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ خاتون نے 25 جولائی کو پولیس اسٹیشن بارہمولہ سے رجوع کرتے ہوئے شکایت درج کرائی تھی۔

ایس ایس پی کے مطابق خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے ایک مرد دوست کے ہمراہ جل شیری درنگبل علاقے میں سیر کیلئے گئی تھی، جہاں دو افراد نے مبینہ طور پر انہیں روک کر ہراساں کیا۔ شکایت کے مطابق ملزمان نے دونوں کے ساتھ مارپیٹ اور بدسلوکی کی، جبکہ خاتون کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے مبینہ زیادتی کے دوران ویڈیو بھی بنائی اور بعد ازاں اس فوٹیج کو دیگر افراد کو دکھایا۔

ایس ایس پی گ±رندر پال سنگھ نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں تحقیقات پولیس کے لیے قدرے مشکل تھیں کیونکہ متاثرہ خاتون ملزمان کو صرف ان کے پہلے ناموں سے جانتی تھی۔ تاہم پولیس نے تکنیکی شواہد اور انسانی ذرائع سے حاصل معلومات کو یکجا کرتے ہوئے مشتبہ افراد کی شناخت کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار شدگان کی شناخت شاکر احمد لون اور محمد اشرف جو دونوں جل شیری کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں افراد ڈرائیونگ کا کام کرتے ہیں، جبکہ 27 سالہ محمد اشرف شادی شدہ ہے۔

ایس ایس پی نے کہا کہ دونوں ملزمان اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں اور معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیس کی تفتیش منصفانہ، غیر جانب دار اور مقررہ مدت کے اندر قانون کے مطابق مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پولیس نے اس معاملے میں دستیاب شواہد اور دیگر متعلقہ پہلوو¿ں کی بنیاد پر تحقیقات آگے بڑھانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق واقعے سے متعلق تمام قانونی پہلوو¿ں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Comments are closed.