سرینگر کے تجارتی مراکز زیر آب آنے کا مسئلہ فوری حل کیا جائے:کشمیر ٹریڈ الائنس

سرینگر//20 جولائی//کشمیر ٹریڈ الائنس نے حالیہ موسلا دھار بارشوں کے بعد سرینگر کے مختلف بازاروں اور تجارتی مراکز میں بار بار پانی جمع ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے اس دیرینہ مسئلے کے مستقل اور مؤثر حل کے لیے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کے ٹی اے کے صدراعجازشہدار نے ایک بیان میں کہا کہ بارش کے بعد شہر کے متعدد بازاروں اور تجارتی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، خریداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور شہر کے نکاسیٔ آب کے نظام کی خامیاں ایک بار پھر کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پانی جمع ہونے کے مسئلے کو عارضی اقدامات کے بجائے ایک جامع، سائنسی اور طویل مدتی حکمت عملی کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ہر بار شدید بارش کے دوران بازاروں اور سڑکوں کے زیرِ آب آنے سے تاجروں کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے، دکانوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچتا ہے جبکہ عام شہریوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اعجاز شہدار نے کہا کہ شہر میں موجود متعدد چھوٹے سیوریج نالے یا تو بند پڑے ہیں، یا خستہ حال ہیں، یا فوری مرمت کے متقاضی ہیں، جس کے باعث بارش کے پانی کی نکاسی کی صلاحیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا کہ تمام نالوں کی بروقت صفائی (ڈی سلٹنگ)، مرمت اور سائنسی بنیادوں پر استعمال کو یقینی بنایا جائے تاکہ بارش کا پانی تیزی سے خارج ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈرینیج نیٹ ورک کی باقاعدہ دیکھ بھال، پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بننے والی تجاوزات کا خاتمہ اور بارش کے پانی کے انتظام کے نظام (اسٹورم واٹر مینجمنٹ) کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں شدید بارشوں کے دوران اس طرح کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

کشمیر ٹریڈ الائنس نے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ سرینگر کے ڈرینیج انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے، بازاروں کو پانی جمع ہونے کے مسئلے سے نجات دلانے اور تاجروں، شہریوں اور سیاحوں کو مستقل راحت فراہم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ بار بار بازاروں زیر آب آنے سے تاجروں کو کافی مالی نقصانات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔

Comments are closed.