وادی کتابوں کی خوشبو سے معطر: چنار بک فیسٹیول 18 سے 26 جولائی سرینگر میں سجنے کو تیار

رپورٹ : اعجاز ڈار

کشمیر ایک بار پھر علم، ادب اور ثقافت کے رنگوں میں رنگنے جا رہا ہے۔ دلکش ڈل جھیل کے حسین پس منظر میں چنار بک فیسٹیول 2026 کا تیسرا ایڈیشن 18 سے 26 جولائی تک شیر کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں منعقد ہوگا، جہاں ملک بھر کے معروف ادیب، مصنفین، شاعر، ناشرین، فنکار، طلبہ اور کتاب دوست افراد ایک ہی چھت تلے جمع ہوں گے۔

نو روزہ اس عظیم الشان ادبی و ثقافتی میلے کا انعقاد نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا، وزارت تعلیم، حکومت ہند، ضلعی انتظامیہ سرینگر اور نیشنل کونسل فار پروموشن آف اردو لینگویج کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔ فیسٹیول کا مقصد مطالعے کے فروغ، ادبی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی اور نوجوان نسل کو کتابوں سے جوڑنا ہے۔

فیسٹیول میں ملک بھر کے 200 سے زائد پبلشراپنے اسٹال لگائیں گے جہاں اردو، کشمیری، ہندی، انگریزی اور دیگر ہندوستانی زبانوں کی ہزاروں کتابیں رعایتی قیمتوں پر دستیاب ہوں گی۔ یہ میلہ قارئین، طلبہ، محققین اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے ایک منفرد موقع ثابت ہوگا۔

چنار بک فیسٹیول کا باقاعدہ افتتاح 18 جولائی کو جموں و کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کریں گے۔ افتتاحی تقریب میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ اسکولی تعلیم، محکمہ اعلیٰ تعلیم، این سی پی یو ایل اور نیشنل بک ٹرسٹ کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوں گے۔

فیسٹیول سے قبل ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لابرو نے ڈل جھیل میں مشہور شکاراو¿ں پر مبنی منفرد ادبی مہم ”شکاراتھون “کا افتتاح کیا، جس کا مقصد مطالعے کو ایک عوامی تحریک میں تبدیل کرنا ہے۔ اسی موقع پر فیسٹیول کا نعرہ ”مل کر پڑھیں گے، مل کر بڑھیں گے “بھی جاری کیا گیا، جو تعلیم اور اجتماعی ترقی کے عزم کی علامت ہے۔

ڈپٹی کمشنر اکشے لابرو نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ چنار بک فیسٹیول صرف کتابوں کی نمائش نہیں بلکہ سیکھنے، تخلیقی اظہار اور نئی سوچ کو فروغ دینے کا ایک منفرد پلیٹ فارم ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو ممتاز ادیبوں، سائنس دانوں، فلمی شخصیات، فنکاروں اور مختلف شعبوں کے ماہرین سے براہ راست ملاقات اور تبادلہ خیال کا نادر موقع حاصل ہوگا۔

نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا کے ڈائریکٹر یوراج ملک نے بتایا کہ اس سال فیسٹیول میں 800 سے زائد ادیب، شاعر، فنکار، کیوریٹر اور ثقافتی شخصیات شرکت کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب جموں و کشمیر کے سب سے بڑے ادبی و ثقافتی میلوں میں شمار ہوگی۔

چنار بک فیسٹیول کے چیف کنوینر ڈاکٹر امت وانچو نے بتایا کہ اس سال خصوصی ”انوویٹرز میٹ “کا بھی انعقاد کیا جائے گا، جس میں شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف کشمیر کے نوجوان موجد اپنی ایجادات، اسٹارٹ اپس اور اختراعی منصوبے پیش کریں گے۔

اس دوران این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ اس سال فیسٹیول میں اردو زبان و ادب کو خصوصی مقام دیا گیا ہے۔ مشاعروں، ادبی نشستوں اور مختلف پروگراموں کے ذریعے اردو کے فروغ کے لیے بھرپور سرگرمیاں منعقد ہوں گی۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اردو کے اس ادبی جشن میں بھرپور شرکت کریں۔

فیسٹیول کے دوران کتابوں کی رونمائی، ادبی مذاکرے، مصنفین سے ملاقاتیں، تخلیقی ورکشاپس، کہانی گوئی، بچوں کی سرگرمیاں، صوفیانہ موسیقی، ثقافتی شامیں اور متعدد علمی نشستیں منعقد ہوں گی۔

اس سال گوجری ترجمہ ورکشاپ کے تحت تیار کی گئی 24 دو لسانی کتابوں کی رونمائی بھی ہوگی، جبکہ راج ترنگنی سمواد منصوبے کے تحت کشمیر کی تاریخی شخصیات پر مبنی ناولوں کی پہلی سیریز بھی قارئین کے سامنے پیش کی جائے گی۔

فیسٹیول میں صحافت، کہانی نویسی، اردو اور کشمیریت، قومی تعلیمی پالیسی، خواتین کی قیادت، نوجوانوں کا کردار، ہندوستانی سنیما، دستکاری، ماحولیات، عوامی پالیسی اور کشمیر کی ادبی تاریخ سمیت کئی اہم موضوعات پر ممتاز ماہرین اظہارِ خیال کریں گے۔

چلڈرنز کارنر میں بچوں کے لیے کہانی گوئی، تخلیقی ورکشاپس، مطالعاتی سرگرمیاں اور دلچسپ پروگرام منعقد کیے جائیں گے تاکہ نئی نسل میں کتاب بینی کا شوق پروان چڑھے۔ اس کے علاوہ شرکا راشٹریہ ای-پستکالیہ کے ذریعے ہزاروں مفت ای کتابوں سے بھی استفادہ کر سکیں گے۔

فیسٹیول کی ایک نئی اور منفرد سرگرمی فائیو کے ریڈنگ رن ہوگی، جو شکشا سپتاہ 2026 کا حصہ ہے۔ اس میں ہزاروں طلبہ شرکت کریں گے اور مطالعے، صحت مند طرزِ زندگی اور مسلسل سیکھنے کے پیغام کو فروغ دیا جائے گا۔

18 سے 26 جولائی تک جاری رہنے والا چنار بک فیسٹیول نہ صرف کتابوں کی نمائش بلکہ علم، ادب، ثقافت، تخلیقی صلاحیتوں اور نوجوانوں کی فکری تربیت کا ایک جامع پلیٹ فارم ہوگا۔ منتظمین نے طلبہ، اساتذہ، ادیبوں، محققین، اہلِ خانہ اور کتابوں سے محبت رکھنے والے تمام افراد کو دعوت دی ہے کہ وہ اس عظیم الشان ادبی جشن میں شریک ہو کر کشمیر کی علمی و تہذیبی روایت کو مزید مضبوط بنائیں۔

Comments are closed.