کشمیر ی ہاوس بوٹ کلچر کی بقا خطرے میں
سیاحتی شعبہ کا تاج سمجھنے والے ” کشمیری ہاوس بوٹوں کی تعدا د اب محض 850رہ گی
اعجاز ڈار
کسی زمانے میں کشمیری سیاحتی شعبہ کا تاج سمجھنے والے ” کشمیری ہاوس بوٹ “ ان دنوں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ دیکھ بھال کے بڑھتے اخراجات ، آبی ٹرانسپورٹ کی شروعات اور انتظامیہ کی بے حسی سے اس صنعت کو غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے ۔
کشمیر میں رجسٹرڈ ہاوس بوٹس کی تعداد میں گزشتہ برسوں کے دوران ڈرامائی طور پر کمی آئی ہے۔
ایک دہائی قبل تقریباً 1500ہاو¿س بوٹس میں سے صرف 850کے لگ بھگ آج کام کر رہے ہیںجس سے اس شعبہ سے وابستہ افراد کسم پرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں اور ہیر ٹیج کو بچانے کی گہوار لگا رہے ہیں ۔
شہرہ آفاق ڈل جھیل کی پرسکون پانی پر پرانے ہاوس بوٹ ایک بھرپور ورثے کی یاد دہانی کے طور پر کھڑے ہیں جو طویل عرصے سے دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں تاہم ان میں سے بہت سے ہاوس بوٹ اب ہفتوں تک خالی پڑے رہتے ہیں، ان کی دھندلی پینٹ اور شٹر شدہ کھڑکیاں ان کے مالکان کو درپیش مشکلات کی عکاسی کرتی ہیں۔اس ساری صورتحال کی رو داد بیان کرتے ہوئے کشمیر ہاو¿س بوٹ اونرس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کشمیر میں رجسٹرڈ ہاوس بوٹوں کی تعداد میں گزشتہ برسوں کے دوران ڈرامائی طور پر کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک دہائی قبل تقریباً 1500ہاوس بوٹوں میں سے صرف 850کے لگ بھگ آج کام کر رہے ہیںجبکہ سال 2010 کے بعد سے سینکڑوں کی تعداد میں خرابی کا شکار ہیں۔
ایسوی ایشن کے صدر منظور احمد پختون نے تعمیل ارشاد کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ” کشمیر کے ہاو¿س بوٹ کلچر کی بقا خطرے میں ہے“۔ انہوں نے کہا”اگر انتظامیہ ہمارے مسائل سے لاتعلق رہتی ہے، تو مستقبل قریب میں کشمیر میں کوئی ہاو¿س بوٹ نہیں ملے گا۔ “ انہوں نے مزید کہا کہ اب بہت سے مالکان تجارت کو مکمل طور پر ترک کرنے پر غور کر رہے ہیں۔منظور پختوان کا کہنا تھا کہ دیکھ بھال ان کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک بن گئی ہے۔ بنیادی طور پر لکڑی سے بنائے گئے ہاوس بوٹوں کومستقل مرمت کی ضرورت ہوتی ہے، بشمول لکڑی کی تبدیلی، ہل کی دیکھ بھال، اور وقتاً فوقتاً تجدید کاری تاہم انہوں نے دعویٰ ہے کہ مالی امداد اور ہمارے ساتھ کئے گئے وعدوں پر سرکار کھرا ترنے میں ناکام ہوئی ۔پختون نے کہا”ہمیں ہاوس بوٹوں کی مرمت کیلئے سبسڈی پر لکڑی کی یقین دہانی کرائی گئی لیکن زمین پر کچھ نہیں ہوا“۔
انہوں نے ان الزامات کو بھی مسترد کر دیا کہ ہاو¿س بوٹس آلودگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ تمام ہاو¿س بوٹس اب سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس سے منسلک ہیں۔انہوں نے کہا کہ کہ اگرچہ سیاحتی نمائشوں اور تشہیری تقریبات میں ہاو¿س بوٹس کو ایک منفرد کشش کے طور پر فروغ دیا جاتا ہے، لیکن کشمیر کے اندر انہیں محفوظ رکھنے کیلئے بہت کم ٹھوس کوشش کی جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب دریائے جہلم میں آبی ٹرانسپورٹ کی شروعا ت کا منصوبہ بھی ہے جو اس صنعت کو پھر سے خطرے میں ڈال دیں گا اور جہلم میں موجود ہاوس بوٹوں کو وجود مکمل طو رپر ختم ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو اس پیشے میں کوئی مستقبل نظر نہیں آتا، اور یہ شائد سب سے بڑا نقصان ہے“۔منظور پختوان نے کہا ”سال 2010 سے لےکر اب تک تقریباً 750 ہاو¿س بوٹس خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہیں، جن میں سے کئی آپریشن کیلئے ناقابل عمل ہیں۔اسی طرح کے خدشات نگین جھیل سے دوسری نسل کے ہاو¿س بوٹ کے مالک نے ظاہر کرتے ہوئے کہا ”ہم ان ہاوس بوٹوں پر پلے بڑھے ہیں۔ یہ ہمارے گھر اور ہماری روزی روٹی ہیں۔ لیکن آج تزئین و آرائش پر پابندیوں اور مالی امداد کے بغیر، اسے برقرار رکھنا ناممکن ہو گیا ہے“۔خیال رہے کہ سال 1900 کی دہائی کے اوائل میں بنائے گئے، کشمیر کی ہاو¿س بوٹ تیرتے ہوئے عجائب گھر ہیں ،دیودار کے پینل والے کمرے، ہاتھ سے تراشے ہوئے فرنیچر، اور برآمدے جو سڑکوں کے بجائے پانی پر کھلتے ہیں
Comments are closed.