ڈاکٹر فاروق عبد اللہ پر قاتلانہ حملہ : جموں کشمیر اسمبلی کے ممبران کی مذمت ، عدالتی تحقیقات کا مطالبہ
جموں و کشمیر اسمبلی کے اراکین نے نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی اور اس حملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ایوان کی کارورائی کے دوران ٹریڑری اور اپوزیشن بنچوں دونوں نے متفقہ طور پر اس واقعہ کو انتہائی پریشان کن اور ایک واضح سیکورٹی لیپ قرار دیا۔ انہوں نے حملہ آور کو دہشت گرد قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا۔
خیا ل رہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، جو ایک سابق وزیر اعلیٰ ہیں، 11 مارچ کو اس وقت معجزانہ طور پر بچ گئے تھے جب جموں کے پرانی منڈی علاقے کے رہائشی 63 سالہ کمل سنگھ نے اس وقت گولی چلائی جب سیاستدان گریٹر کیلاش علاقے میں ایک شادی کی تقریب سے نکل رہا تھا۔ حملہ آور کو قابو کر کے ریوالور سمیت گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس نے واقعہ کی تحقیقات کے لیے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) کی نگرانی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔
جیسے ہی ایوان کا اجلاس ہوا، نیشنل کانفرنس کے کئی قانون سازوں نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو مطلع کیا کہ انہوں نے عبداللہ پر حملے پر بحث کے لیے تحریک التوا پیش کی ہے۔تاہم اسپیکر نے وقفہ سوالات کے پرامن اختتام کو یقینی بنایا اور بعد میں اس واقعے پر بحث کی اجازت دی
Comments are closed.