پولیس سربراہ اور آئی جی کشمیر نے وادی بھر میں سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا

سری نگر،یکم مارچ

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد وادی بھرمیں ا±بھری ہوئی عوامی بے چینی اور امریکا–اسرائیل مخالف احتجاجی مظاہروں کے پیشِ نظر، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالِین پربھات اور انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر وی کے بردی نے اتوار کے روز زمینی سطح پر متعدد حساس ترین مقامات کا دورہ کیا تاکہ مجموعی سیکورٹی صورتحال اور قانون و نظم کی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ڈی جی پی پربھات اور آئی جی پی کشمیر کے ہمراہ ایس ایس پی سرینگر، دیگر سینئر پولیس افسران اور متعدد سیکورٹی ایجنسیوں کے نمائندے بھی موجود تھے۔ یہ ٹیم صبح سے ہی دارالحکومت سرینگر سمیت جنوبی اور وسطی کشمیر کے کئی حصوں میں گشت کرتی رہی اور اہلکاروں کی تعیناتی، ہجوم پر نظر رکھنے کے اقدامات اور اہم شاہراہوں پر سیکورٹی کے مجموعی انتظامات کا معائنہ کرتی رہی۔ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ اتوار کو وادی کے مختلف علاقوں میں ایران کے ساتھ یکجہتی اور امریکا و اسرائیل کے خلاف پ±رامن احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔

تنظیموں، مقامی جماعتوں اور شہری حلقوں کی جانب سے منعقد ان ریلیوں میں لوگوں نے بینرز اٹھا کر ایران کے عوام کے ساتھ ہمدردی اور خطے میں جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ پولیس نے ان جلوسوں کو مجموعی طور پر پ±رامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے پ±رامن جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون کے کسی بھی ممکنہ بگاڑ سے نمٹنے کے لیے سخت چوکس رہنا ضروری ہے۔یہ بھی بتایا گیا کہ حساس مقامات، تعلیمی اداروں، مارکیٹوں اور مذہبی مقامات کے آس پاس اضافی نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ سی سی ٹی وی نگرانی اور مشترکہ کنٹرول روم سے باریک سطح پر مانیٹرنگ جاری ہے۔ سیکورٹی اداروں نے مختلف ایجنسیوں کے مابین باہمی تال میل کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر بھی غور کیا، تاکہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری ردعمل ممکن ہو سکے۔ڈی جی پی نالین پربھات نے موقع پر موجود افسران کو ہدایت دی کہ عوامی نقل و حرکت میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا نہ کی جائے اور احتجاج کے دوران امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے تحمل، پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور متوازن حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی فضاءکو سازگار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کریں تاکہ حالات مکمل طور پر پ±رسکون رہیں۔

Comments are closed.