وادی کشمیر میں غیر معمولی گرمی؛ بادام کے پیڑوں پر قبل از وقت شگوفے پھوٹ پڑے، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
سری نگر،21فروری
وادی کشمیر اس وقت غیر معمولی موسمی صورتحال سے دوچار ہے جہاں فروری کے وسط میں ہی بادام کے پیڑوں پر شگوفے پھوٹنے لگے ہیں، جس نے باغ مالکان اور ماہرین کو سخت پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس قدر قبل از وقت شگوفے پھوٹنا موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ کا براہِ راست نتیجہ ہے، جس کے مستقبل میں سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ماہرِ موسمیات فیضان عارف کینگ نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ رواں برس وادی میں درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور یہی غیر معمولی اضافہ پھل دار درختوں کی قبل از وقت نشوونما کا سبب بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دن کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور اس کا اثر سیدھے طور پر ہاٹی کلچر اور اگریکلچر دونوں شعبوں پر پڑ سکتا ہے۔
کینگ کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ فروری میں شگوفے پھوٹے ہوں، مگر اس بار گرم موسم کی شدت اور تسلسل نے صورتحال کو زیادہ سنگین بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فروری اس سال ریکارڈ حد تک گرم ہے اور آنے والے دنوں میں مزید گرمی بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں پھلوں کی پیداوار کو بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر مارچ میں کوئی فعال مغربی ڈسٹربنس وادی میں داخل ہوتا ہے تو پھل دار درختوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ’مارچ میں بارش ہوئی تو پھل نکلنے کا امکان کم ہو جائے گا، کیونکہ قبل از وقت پھوٹے شگوفے نمی اور سردی برداشت نہیں کر پائیں گے۔‘فیضان عارف نے مزید بتایا کہ اگر مارچ میں بارش نہ ہوئی تو ہاٹی کلچر شعبہ کسی حد تک محفوظ رہ سکتا ہے، تاہم زرعی شعبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کے مطابق گرمی بڑھنے کی صورت میں پانی کی دستیابی کم ہو سکتی ہے جس کا براہِ راست اثر دھان کی پنیری پر پڑے گا۔ پانی کی کمی کے باعث دھان کی بارانی زمینیں فوراً متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ درجہ حرارت کا سلسلہ اسی طرح برقرار رہا تو نہ صرف باغات بلکہ فصلیں بھی متاثر ہوں گی، جبکہ گرمیوں میں پینے کے پانی کی قلت بھی درپیش ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق رواں ماہ کے آخر اور مارچ کے آغاز میں درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ وادی کے قدرتی موسمی چکر کے لیے سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔باغ مالکان نے بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ قبل از وقت شگوفے آنے سے پھل کی پیداوار براہ راست متاثر ہوتی ہے، اور اگر موسم میں اچانک تبدیلی آ جائے تو پورا سال کی محنت ضائع ہو سکتی ہے۔غیر معمولی موسمی صورتحال نے ایک بار پھر وادی میں گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات کو نمایاں کیا ہے، اور ماہرین اس سلسلے میں فوری اور مو¿ثر اقدامات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
Comments are closed.