آپریشن تراشی نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی، سخت کارروائیاں جاری رہیں گی: سنیل شرما
جموں و کشمیر میں جاری ’آپریشن تراشی‘ کو خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی جانب سب سے بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے حزب اختلاف کے لیڈر سنیل شرما نے جمعرات کو کہا کہ حالیہ کارروائی نے دہشت گردوں اور اُن کے سلیپر سیلز کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس کے مزید نتائج سامنے آئیں گے۔
جموں میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران شرما نے بتایا کہ گزشتہ کئی مہینوں سے سیکورٹی فورسز کو متعدد مقابلوں اور تلاشی کارروائیوں کے باوجود بڑی کامیابی نہیں مل رہی تھی، تاہم تازہ ترین آپریشن نے انسدادِ دہشت گردی مہم میں فیصلہ کن موڑ پیدا کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈوڈہ، رامبن، ادھمپوراور کٹھوعہ کے دشوار گزار علاقوں میں سرگرم دہشت گردوں کی نشاندہی ہو چکی ہے اور فورسز نے نئی حکمتِ عملی کے تحت کارروائیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ ان کے مطابق اب دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف زمین تنگ کر دی گئی ہے۔
سنیل شرما نے اوور گراؤنڈ ورکروں اور دہشت گردوں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے والے مقامی نیٹ ورکس کے خلاف جاری سخت کارروائی پر اطمینان ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ماڈیولز اور خفیہ چینلز کے ذریعے سرگرم عناصر کو بے نقاب کیا جا رہا ہے اور جو بھی شخص معمولی سطح پر بھی ملوث پایا گیا، اس کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت کارروائی ہوگی۔
انہوں نے رمضان کے دوران عطیات جمع کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری نئے رہنما خطوط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس قدم کا مقصد مذہبی عطیات، خصوصاً زکوٰۃ اور خیرات کو غلط ہاتھوں میں جانے سے بچانا ہے۔ انہوں نے اسے قومی مفاد میں اہم اور سنجیدہ فیصلہ قرار دیا۔
قائد حزبِ مخالف نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی جموں میں نیشنل لاء یونیورسٹی کے قیام کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں کوششیں تیز کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کو قانونی تعلیم کا اعلیٰ مرکز فراہم کیا جا سکے۔
Comments are closed.