کشمیر میں نئی ریلوے لائنوں کا سروے مکمل، حکومت کا زمین مالکان کو مکمل معاوضہ دینے کا یقین

جموں،19 فروری

جموں و کشمیر حکومت نے جمعرات کو اسمبلی میں کہا ہے کہ وادی کشمیر میں مجوزہ ریلوے توسیعی منصوبوں کے سلسلے میں ناردرن ریلوے کی جانب سے فائنل لوکیشن سروے مکمل کیا جا رہا ہے اور منصوبے منظور ہونے کی صورت میں زرعی اور باغیاتی اراضی متاثر ہونے پر زمین مالکان کو قانون کے مطابق مکمل معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔

یہ بات لولاب کے رکن اسمبلی کے ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیر ٹرانسپورٹ نے بتائی۔

حکومت نے واضح کیا کہ وادی میں متعدد نئی ریلوے لائنوں کے لیے زمین کی ضرورت کا تخمینہ لگایا جا چکا ہے اور ان راستوں کی حد بندی متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد طے ہو چکی ہے۔ وزیر کے مطابق اگر یہ منصوبے باضابطہ طور پر منظور ہوتے ہیں تو حصولِ اراضی کے دوران درختوں، ڈھانچوں اور زرعی زمین کے نقصان کے عوض زمین مالکان کو قابلِ اطلاق قوانین کے تحت ادائیگی کی جائے گی۔

جواب میں بتایا گیا کہ جیسے ہی ان منصوبوں کو مرکزی حکومت کی منظوری ملے گی، ماحولیات کے تحفظ سے متعلق تمام تخفیفی اقدامات اختیار کیے جائیں گے تاکہ جنگلاتی کمی، مٹی کے کٹاؤ، پانی کے وسائل پر اثرات اور ماحولیاتی توازن کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔ حکومت نے کہا کہ ان منصوبوں کے دوران ریلوے لائن کی تیاری، سرنگوں کی کھدائی اور تعمیراتی سرگرمیوں سے وادی کی زراعت اور ماحولیات پر کم سے کم اثر یقینی بنانے کے لیے مرکزی حکومت، ریلوے حکام اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مربوط رابطہ جاری رکھا جائے گا۔

حکومت نے یہ بھی بتایا کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور کشمیر کی نازک ماحولیاتی ساخت کے تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک طویل المدتی پالیسی مرتب کی جا رہی ہے، جس کے تحت منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی کے لیے ایک مؤثر میکانزم قائم کیا جائے گا۔

وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ تمام مجوزہ ریلوے لائنوں کو اسی اصول کے تحت آگے بڑھایا جائے گا کہ وادی کے ماحول، زراعت اور مقامی زندگی پر کم سے کم اثر پڑے، اور متاثرہ کسانوں کی مکمل بازآبادکاری حکومت کی اولین ترجیح رہے گی۔

Comments are closed.