ریاستی درجہ کی بحالی ہی عوامی اطمینان کی واحد ضمانت: وزیراعلیٰ عمر عبداللہ

سری نگر،17فروری

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو واضح کیا ہے کہ ریاستی درجہ کی بحالی کے بغیر عوام مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم مسئلے پر مرکز کے ساتھ لگاتار بات چیت جاری ہے اور امید ہے کہ جلد مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔

شیر کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر سری نگر میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران وزیرا علیٰ نے کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی کا عمل توقع سے زیادہ وقت لے رہا ہے، تاہم مذاکرات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور حکومت عوام کی خواہشات پوری کرنے کے لیے تمام کوششیں کر رہی ہے۔انہوں نے چودہ سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھولنے کے حالیہ حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یوسمرگ، دودھ پتری اور دیگر مقامات کی بندش سے مقامی لوگوں کو بھاری معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس کے دوبارہ کھلنے سے سیاحتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی اور لوگوں کو روزگار کا فائدہ ملے گا۔عمر عبداللہ نے کہا کہ اگرچہ اس معاملے پر کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا، لیکن مرکز کے ساتھ مسلسل رابطہ قائم ہے اور یہ سلسلہ ڈیڑھ برس سے جاری ہے۔

ان کے مطابق حکومت کو امید ہے کہ زیادہ دیر تک انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور ریاستی درجہ کی بحالی سے متعلق کوئی خوشخبری جلد سامنے آئے گی۔انہوں نے اس دوران بعض مالی اور انتظامی معاملات پر برسراقتدار جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سرکاری زمین کے ایک پرانے معاملے پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی، جبکہ جموں و کشمیر کے لیے مختص ترقیاتی فنڈ کا بڑا حصہ دوسری ریاستوں میں خرچ کیا جا رہا ہے، جو کہ یہاں کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔وزیراعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ وادی اس وقت چونتیس فیصد بجلی کی کمی کا سامنا کر رہی ہے، تاہم کوشش کی جا رہی ہے کہ عوام کو کم سے کم مشکلات پیش آئیں، خصوصاً مقدس مہینے اور شہر بندی کے منصوبوں کے دوران۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے برسوں سے چلے آ رہے خسارے بتدریج ختم کیے جائیں گے اور نئی تعمیراتی منصوبہ بندی سے صورتحال بہتر ہو گی۔
عمر عبداللہ نے ملازمین کی باقاعدگی کے سلسلے میں بھی یقین دہانی کرائی کہ ایک مقررہ مدت کے تحت پالیسی نافذ کی جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر احتجاج سے گریز کریں، کیونکہ اس طرح کے اقدامات ان کے مفاد اور مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔وزیراعلیٰ کے مطابق ریاستی درجہ کی بحالی ہی وہ قدم ہے جو جموں و کشمیر کے عوام کی اصل خواہش پوری کر سکتا ہے اور اسی سے یہاں کے سیاسی مستقبل میں استحکام آئے گا۔

Comments are closed.