بی جے پی ممبر اسمبلی کا وادی کے باشندوں پر زمین ہڑپنے کا الزام، ایوان میں شدید ہنگامہ

جموں و کشمیر اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں جمعہ کو اس وقت شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی جب بی جے پی کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا نے الزام عائد کیا کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے لوگ جموّں شہر میں سرکاری زمین پر بڑے پیمانے پر ناجائز قبضے کر رہے ہیں۔
کابینہ وزیر سکینہ ایتو نے رندھاوا کے سوال کے جواب میں بتایا کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق تحصیل بہو میں 688 کنال 17 مرلہ اور تحصیل جموّں ساؤتھ میں 579 کنال زمین پر ناجائز قبضہ ہے۔
وزیر نے مزید کہا کہ یہ پرانے قبضے ہیں جنہیں پبلک پریمسز ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت مرحلہ وار ہٹایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنوری 2025 سے اب تک 34 بار انہدامی مہم چلائی گئی ہیں جن کے دوران 140 کنال 11 مرلہ جے ڈی اے کی زمین واگزار کرائی گئی ہے۔
رندھاوا نے الزام لگایا کہ ان علاقوں میں زیادہ تر مکانات وادی سے آئے لوگوں کے ہیں اور انتظامیہ ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں جے ڈی اے کی 16 ہزار کنال سے زائد زمین قبضے میں ہے، حکومت تحقیقات کرے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر کے لوگ اگر زمین خرید کر گھر بنائیں تو کوئی اعتراض نہیں، لیکن سرکاری زمین پر تعمیر کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے ارکان نے ان الزامات کی سخت مخالفت کی۔
سکینہ ایتو نے کہا کہ قبضے کے مسئلے کو علاقائی بنیاد پر نہیں دیکھنا چاہیے: ’جموں و کشمیر کو ایسے بیانات سے تقسیم کرنا درست نہیں۔‘
وزیر نے بتایا کہ مستقبل میں قبضے روکنے کے لیے فینسنگ اور سائن بورڈز نصب کیے گئے ہیں اور فیلڈ اسٹاف روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کرتا ہے۔
جے ڈی اے کو ضرورت پڑنے پر جموّں میونسپل کارپوریشن، ریونیو محکمہ اور مقامی پولیس مکمل معاونت فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لاپرواہی پر کارروائی بھی کی گئی ہے، جن میں وارننگ، محکمانہ کارروائی، سروس بُک میں ریڈ اینٹری، معطلی اور انکریمنٹ روکنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
سکینہ ایتو نے بتایا کہ پنکج سمبیال اور رمیش کمار کی سروِس بُک میں بھی ریڈ اینٹری درج کی گئی ہے۔
ایوان سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکرم رندھاوا نے دوبارہ الزام لگایا کہ حکومت فہرست چھپا رہی ہے کیونکہ قبضہ داروں کا تعلق وادی سے ہے اور سوال کیا کہ مجھے اس فہرست سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے؟

Comments are closed.