چیف سیکرٹری نے جموں وکشمیر میں ’حمایت‘ سکیم کے اثرات کاجائزہ لیا
جموں/12فروری
چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے آج دین دیال اپادھیائے گرامین کو شلیایوجنا( ڈِی ڈِی یو۔ جی کے وائی)جموںوکشمیر میں ’حمایت‘ سکیم کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جومرکزی وزارت دیہی ترقی کی ایک پہل ہے جس کا مقصد دیہی نوجوانوں کو ہنرمندی کے قابل بنانا اور ان کے لئے مستحکم روزگار کو یقینی بنانا ہے۔
میٹنگ میں سیکرٹری دیہی ترقی محکمہ اعجاز اسد،چیف آپریٹنگ آفیسر حمایت رجنیش گپتا اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔
دوران میٹنگ چیف سیکرٹری نے نئے حمایت 2.0 کے تحت تربیتی اہداف کو مقررہ وقت میں حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ نتیجہ پر مبنی نقطہ نظر اَپنا ئے اور پروجیکٹ عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں (پی آئی اےز) کی ادائیگیاں ان کی پلیسمنٹ کارکردگی سے سختی سے منسلک کرے تاکہ جوابدہی اور بہتر نتائج کو یقینی بنایا جا سکے۔
اُنہوں نے سکیم کے پہلے مرحلے کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے، تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کی تعداد اور کل فنڈز کے استعمال کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے موجودہ مالی برس 2025-26 کے دوران حاصل کی گئی پیش رفت اور حمایت 2.0 کے تحت مقررہ کردہ اہداف کا بھی جائزہ لیا۔
اِس موقعہ پر سیکرٹری دیہی ترقی محکمہ اعجاز اسد نے بتایا کہ سکیم اہل دیہی نوجوانوں کو روزگار سے منسلک مہارت کی تربیت فراہم کرتی ہے اور انہیں باقاعدہ ملازمت، گیگ اکانومی کے مواقع یا خودروزگار کے منصوبوں میں روزگار کے لئے سہولیت فراہم کرتی ہے دیتی ہے جس سے دیرپا معاش کو فروغ ملتا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ پروگرام کا پہلا ورژن جو 2016 سے 2026 تک عملا گیا، کے نتیجے میں یونین ٹریٹری میں 36,316 اُمیدواروں کی تربیت مکمل ہوئی۔ڈِی ڈِی یو ۔ جی کے وائی 2.0 کے تحت جو اپریل 2025 سے لاگو ہوا، جموں و کشمیر کو سال 2025-26 کے لئے 2,248 اُمیدواروں کی تربیت کا ہدف دیا گیا ہے جس کے لئے 37.64 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ اَب تک 1,838 اُمیدواروں کو تربیت دی جا چکی ہے۔
چیف آپریٹنگ آفیسر حمایت رجنیش گپتا نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ 2025-26 کے دوران 996 اُمیدواروں کے ہدف کے مقابلے میں 1,589 اُمیدواروں کو تربیت دی گئی جن میں سے 850 کو مختلف شعبوں میں کامیابی سے روزگار فراہم کیا گیا۔ اِس سال کے دوران 27.49 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
میٹنگ کوڈِی ڈِی یو۔ جی کے وائی 2.0 کی اہم خصوصیات سے آگاہ کیا گیا جس کے مطابق پی آئی ایز کو تربیت حاصل کرنے والے اُمیدواروں کا کم از کم 70 فیصد روزگار فراہم کرنا لازمی ہے اور کم از کم ماہانہ اجرت 12,000 روپے ہونی چاہیے تاکہ وہ پروجیکٹ کے اخراجات کے دعوے کے اہل ہوں۔میٹنگ کو یہ بھی بتایا گیا کہ بیچ وار مانیٹرنگ متعارف کی گئی ہے جس میں تربیتی سیشن کی لائیو سٹریمنگ حمایت دفتر میں کی جاتی ہے تاکہ پی آئی اےز کی تربیت کی فراہمی کی معیار اور حقیقی وقت میں نگرانی کی جا سکے۔
اِس وقت 13 پی آئی اے کو ہر ایک کے لئے 175 امیدوار مختص کئے گئے ہیں تاکہ مجموعی تربیتی اہداف پورے کئے جا سکیں۔ یہ ایجنسیاں مختلف تربیتی مراکز میں مختلف شعبوں میں مہارت کی تربیت فراہم کر رہی ہیںجن میں آفس اسسٹنٹ، اسسٹنٹ ڈیزائنر، سیلز اسسٹنٹ، فرنٹ آفس اسسٹنٹ، جنرل ڈیوٹی اسسٹنٹ، سپلائی چین ایگزیکٹیو، اسمبلی آپریٹر، فوڈ اینڈ بیوریج اسسٹنٹ، اور ہوم اپلائنسز کے لئے ملٹی سکل ٹیکنیشن شامل ہیں۔
میٹنگ میں سکیم کے تحت کی گئی اِنفارمیشن ، ایجوکیشن اور کمیونی کیشن( آئی اِی سی) کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
چیف سیکرٹری نے ہنر مندی کے فروغ کے اَقدامات کو مضبوط بنانے کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لئے معیاری تربیت، بہتر روزگار کے نتائج اور مستحکم روزگار کے مواقع کو یقینی بنائیں۔
Comments are closed.