دفعہ370 تاریخ کا حصہ، ’خصوصی درجہ‘ کا کوئی آئینی وجود نہیں: سنیل شرما

جموں،7فروری

بی جے پی کے سینئر لیڈر اور جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما نے ہفتے کے روز ایوان میں ایک اہم خطاب کے دوران واضح کیا کہ ہندوستانی آئین میں جموں و کشمیر کے لیے ’خصوصی درجہ‘ نام کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس پر الزام لگایا کہ وہ اس بے بنیاد اصطلاح کو بار بار اچھال کر عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ آئینی مطالبات ہمیشہ آئین کی واضح دفعات کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ ’جہاں تک میرا مطالعہ ہے، آئینِ ہند میں جموں و کشمیر کے انضمام یا الحاق کے حوالے سے خصوصی درجہ جیسا کوئی لفظ موجود نہیں۔ اگر کوئی آئینی مطالبہ کرتا ہے تو اس کی پشت پر آئینی بنیاد ہونی چاہیے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ مختلف ریاستیں معاشی پیکجوں یا روزگار سے متعلق مراعات کے لیے ’خصوصی درجہ‘ جیسی اصطلاحات استعمال کرتی ہیں، لیکن اسے آرٹیکل 370 سے جوڑنا سراسر غلط ہے۔
اس دوران انہوں نے ایوان میں این سی کے ایک رکن کی جانب سے لگائے گئے نعروں پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا کہ آئین میں یہ درجہ آخر کہاں تحریر ہے۔ ’اگر کوئی مجھے دکھا دے کہ آئین میں جموں و کشمیر کے لیے ’خصوصی درجہ‘ کا ذکر ہے تو میں ہر سزا قبول کرنے کو تیار ہوں۔ یہ صرف ایک غلط بیانی ہے‘۔
شرما نے عبداللہ خاندان پر بھی سنگین الزام عائد کیا کہ وہ دہائیوں سے اس ’فرضی خصوصی درجہ‘ کو سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کر کے عوام کو دھوکہ دیتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاملہ بار بار اس لیے اٹھایا جاتا ہے تاکہ ماضی کی حکمرانی کی ناکامیوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔

Comments are closed.