پیر پنجال پر ایل او پی کے مبینہ ریمارکس پر ہنگامہ آرائی کے درمیان اسمبلی کی کارروائی 15 منٹ کے لیے ملتوی
جموں، 4 فروری
جموں و کشمیر اسمبلی کے سپیکر عبدالرحیم راتھر نے بدھ کو قائد حزب اختلاف کے (ایل او پی) سنیل شرما کے پیر پنجال کے متعلق بیان پر ہنگامہ آرائی کے بعد ایوان کی کارروائی 15 منٹ کے لیے ملتوی کر دی۔
بتادیں کہ ایل او پی سنیل شرما نے ایک پرائیویٹ چینل کے ساتھ انٹریو میں کہا کہ ‘پیر پنچال’ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔
وقفہ سوالات کے اختتام پر کچھ ہی دیر میں ہنگامہ شروع ہوا جب کانگریس کے رکن اسمبلی افتخار احمد نے ایک پورٹل کو انٹرویو کے دوران ریمارکس پر بی جے پی لیڈر سنیل شرما سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے رکن اسمبلی سنیل بھاردواج نے کہا: ‘ہم "ایک بھارت سرشٹھ بھارت” میں یقین رکھتے ہیں، ایسے مدعے اٹھا کر وہ لوگوں کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں تاکہ لوگوں کو در پیش مشکلات کو نہ اٹھایا جائے’۔
کئی قانون ساز بشمول آزاد اورف نیشنل کانفرنس کے ارکین کانگریس کے رکن اسمبلی کے ساتھ اس مطالبے کو اٹھانے میں شامل ہوئے، جس کی بی جے پی قانون سازوں نے سخت مخالفت کی۔
سپیکر راتھر نے ناراض ارکان اسمبلی کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن ان میں سے کئی نے ایوان کے ویل کی طرف جانے کی کوشش کی اور آمنے سامنے آگئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایوان کی کارروائی 15 منٹ کے لیے ملتوی کردی۔
اسمبلی کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کانگریس رکن اسمبلی نے کہا کہ جب تک ایل او پی معافی نہیں مانگتے، وہ ایوان کو چلنے نہیں دیں گے۔
انہوں نے پونچھ اور راجپوری اضلاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا” ‘ایل او پی نے پیر پنجال کے لوگوں کی بے عزتی کی ہے’۔
Comments are closed.