شاٹھ گنڈ لولاب کے نوجوا ن کی عسکریت میں شامل ہونے کی خبر وائرل
علاقہ میں فکر و تشویش کی لہر ،فورسز کی جابجا تنگ طلبی اور ہراسانی بنیادی وجہ ہوسکتا ہے / اہل خانہ
ناظم نذیر
لولاب /15مارچ : شاٹھ مقام لولاب کے 24سالہ نوجوان کا سماجی ویب سائٹ کے فیس بُک پرفوٹو سمیت اس کے عسکری تنظیم میں شامل ہونے کی خبر وائرل ہونے کے بعد علاقہ میں فکر و تشویش کی لہر دوڈ گئی۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق نوجوان بلال احمد شاہ ولد شمس الدین شاہ ساکنہ شاٹھ مقام حسب معمول گھر سے مزدوری کے لئے نکلا ہے اور اس کے بعد گھر واپس نہ لوٹنے کی صورت میں سماجی ویب سائٹ فیس بک پر یہ خبر وائرل ہوئی ہے کہ مذکورہ نوجوان مقامی عسکری تنظیم حزب المجاہدین میں شامل ہوا ہے ۔ اگر چہ اس حوالے سے کسی سرکاری ایجنسی یا عام لوگوں نے کوئی تصدیق نہیں کی تاہم معاملہ موضوع بحث بن گیا ۔ اس سلسلے میں میڈیا سے وابستہ نمائندوں نے نوجوان کے گھر جاکر حقائق معلوم کرنے کی کوشش کی ۔ نمائندہ کے مطابق مذکورہ نوجوان کے اہل خانہ سے جب بات کی تو اُنہوں نے بتایا کہ مذکورہ نوجوان کا بات مرحوم شمس الدین شاہ عسکریت میں شامل ہوا تھا اور 1992میں ایک معرکہ آرائی کے دوران جان بحق ہوا ہے اور اس وقت مرحوم دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو کم سنی میں ہی داغ مفارقت دیکر چل بسے ۔ اُنہوں نے کہاکہ والد کے جان بحق ہونے کے بعد نابالغ اور نافہم بچوں کی پرورش کی ذمہ داری ان کے حقیقی وارثوں نے نبھائی ۔ ان کے بقول بلال احمد شاہ زیر تعلیمہوتے ہی اپنے روز گار کی تلاش میں سر گرداں ہوااور مزدوری کا پیشہ اختیار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اسکول چھوڑنے کے بعد مذکورہ نوان نے اپنی غربت کا بوجھ اپنے کندوں پر اُٹھاکر ہر سال تین مہینے مزدوری کے لئے لداخ جانے کاسلسلہ شروع کیا اور سال رواں تک اس سلسلے کو جاری رکھا ہوا تھا اور کئی مہینوں میں بطور سیلز مین بھی
اپنا کام جاری رکھتے ہوئے گھر کا کماﺅ ثابت ہوتا رہا تاہم انہوں نے مذکورہ کے گھرسے لاپتہ ہونے کے وجوہات بیان کرتے ہوئے کہ مذکورہ نوجوان فوج اور پولیس کی تنگ طلبی کی وجہ ہر وقت مایوس اور اداس رہتا تھا اور خوفزدہ تھا ۔انہوں نے کہا کہ اس کے لاپتہ ہونے کا یہ بھی وجہ ہوسکتا ہے ۔ان کے بقول فورسز مذکورہ نوجوان کو مختلف طریقوں سے ہراساں کررہا تھا ۔2008کے عوامی ایجی ٹیشن میں گرفتار کرکے اذیتیں دی اور2016میں بھی سنگباری کے الزام میں ایف آئی آر درج کیا اور طرح طرح کے مظالم اس پر ڈھائے جارہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ بلال احمد یکم مارچ کو حسب معمول اپنے کام کےلئے گھر سے نکلالیکن تب سے گھرواپس نہیں لوٹا۔انہوںنے کہا کہ جب مذکورہ گھر سے لاپتہ ہوا تو فیس بُک پر اس کا فوٹو آیا جس پر بتایا گیاہے کہ بلال احمد عسکری تنظیم میں شامل ہوا جس کا انہیںکوئی علم نہیں ہے البتہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ بلال احمد شاہ فورسز کی باربار کی زیادتیوں سے کافی تنگ آچکا تھا۔ان کے بقول پولیس نے بلال احمد کے لاپتہ ہونے کے بعد ان کے بھائی کو بھی طلب کیا ۔اس سلسلے میں نمائندے نے ڈی ایس پی لولاب سے رابطہ قائم کیا تو موصوف نے کہا کہ قبل ازوقت اس بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کرسکتے ہیں اور حقائق سامنے آنے کے بعد ہی کچھ کہہ سکتے ہیں
Comments are closed.