منوج سنہا نے امیرا کدل فٹ برج کا افتتاح کیا

سری نگر، 20 جنوری

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز بحال شدہ پرانے امیرا کدل فٹ برج کا افتتاح کیا۔
اس موقع پر رکن اسمبلی لال چوک احسان پردیسی، صوبائی کمشنر کمشیر انشول گرگ،ضلع مجسٹریٹ سری نگر اکشے لبرو اور دیگر سول اور پولیس کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے میڈیا کو بتایا: ‘سمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت امیرا کدل فٹ برج جو شہر کا بہت ہی پرانا پل ہے ، کو تیار کرکے آج لوگوں کے نام وقف کر دیا گیا’۔
انہوں نے کہا: ‘یہ پل جس کی بحالی کا کام سال 2023 میں کیا گیا تھا،یہاں کی تہذیب و ثقافت کو جدید شہری ڈیزائن سے جوڑتا ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے شہر خاص اور سری نگر کے درمیان جو پرانا تعلق رہا ہے، وہ بحال ہوگا۔
سری نگر اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت تعمیر شدہ 7.17 کروڑ روپیوں کی لاگت کے اس شاندار اور فن تعیر کے نادر نمونے کے پل سے راہگیروں کا تحفط اور ان کی رسائی بہتر ہو جائے گی۔
یہ پل سری نگر کے ان سات مشہورقدیم ترین پلوں میں سے ایک ہے جو امتداد زمانہ کے ساتھ نا قابل آمد ورفت بن گیا تھا بلکہ اس کے فقط نشان باقی ہی رہ گئے تھے۔
اعلیٰ معیار کی خالص دیودار لکڑی سے تعمیر ہونے والا یہ پل اب نہ صرف لوگوں کے لئے آرام و آسائش کا ذریعہ بنے گا بلکہ یہ سیاحوں کے لئے باعث کشش ہوگا۔
اپنی نوعیت کے اس منفرد برج کی تعمیر کے لئے رفیع ثاقب آرکیٹکٹس اور البرج کنسلٹنسی نے کام کیا۔
رفیع ثاقب آرکیٹکٹس کے نجم الثاقب نے یو این آئی کو بتایا: ‘اس پل کو ڈیزائن کرنے میں تین ماہ لگ گئے، اس کی چوڑائی 9 میٹر ہے اور اس کو بنانے کے لئے اعلیٰ معیار کی دیودار لکڑی استعمال کی گئی ہے’۔
اس پل میں چونکہ چھت والی جگہ زیادہ ہے جہاں لوگ برف وباراں میں اپنا ساز و سامان رکھ سکتے ہیں یا وہاں برف باری یا بارش سے بچنے کے لئے بیٹھ سکتے ہیں.اس پل پر بیٹھنے کے لئے جو مخصوص جگہ رکھی گئی ہے وہاں لوگ خاص طور پر سیاح بیٹھ کر دریائے جہلم کے پر کیف نظاروں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں اور اس میں اوپن ٹائپ ہٹس بنائی گئی ہیں جہاں لوگ بیٹھ کر تھکان بھی دور کر سکیں گے۔
تاریخی اعتبار سے یہ پل افغان دور میں سال 1774 میں ایک افغان گورنر امیر خان نے تعمیر کر وایا تھا جس کے بعد سیلابوں کی وجہ سے یہ خستہ ہوگیا تھا۔
دریں اثنا لوگ خاص طور پر مقامی لوگ اس پل کے تعمیر پر انتہائی خوش ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف اس کے متصل واقع دوسرے پل پر رش کم ہوگا اور ٹریفک کی نقل و حمل میں کوئی دقت نہیں ہوگی وہیں لوگوں کو بھی آسائش ہوگی۔

Comments are closed.