ہمیں دھوکے سے شری شری روی شنکر کے پروگرام میں شرکت کیلئے لایا گیا: شرکاءکا الزام
سری نگر::جموں وکشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر میں واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن کمپلیکس کے احاطے میں میں ہفتہ کے روز روحانی پیشوا اور آرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکر کے پروگرام ’پیغام محبت‘ کی شرکاءخواتین اور نوجوانوں نے الزام لگایا کہ انہیں دھوکے سے مذکورہ پروگرام میں شرکت کے لئے لایا گیا۔
شرکاءخواتین کے مطابق انہیں بتایا گیا تھا کہ سری نگر میں ان کے مسائل سننے کے لئے کوئی خاص سرکاری عہدیدار باہر سے آیا ہے جبکہ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا وہاں انہیں کرکٹ کھیلنے کا سامان مہیا کیا جائے گا۔ تقریب کے دوران سینکڑوں لوگ درمیان میں ہی اٹھ کر چلے گئے۔ کچھ نوجوانوں نے کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔ روی شنکر کے پروگرام ’پیغام محبت‘ کا انعقاد کرنے والی غیر معروف تنظیم ’جموں وکشمیر کارڈی نیشن کمیٹی ‘ کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے انعقاد کا مقصد برسوں پرانے مسئلہ کشمیر کا مستقل حل ڈھونڈ نکالنا ہے۔
اس تنظیم نے دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ پروگرام میں مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگ شرکت کرنے والے ہیں۔ تاہم پروگرام کے مقام یعنی ایس کے آئی سی سی کے احاطے میں اس وقت عجیب صورتحال پیدا ہوئی جب شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ سے تعلق رکھنے والی قریب ڈیڑھ سو خواتین نے احتجاج کیا کہ انہیں دھوکے سے پروگرام میں شرکت کے لئے لایا گیا۔ محکمہ صحت میں بحیثیت ’آشا ورکر‘ کام کرنے والی ان خواتین کے مطابق انہیں بتایا گیا تھا کہ سری نگر میں ان کے مسائل سننے کے لئے کوئی خاص سرکاری عہدیدار باہر سے آیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں اپنی یونین کے بعض افراد نے ہی دھوکے سے یہاں لایا ہے۔ ایک ’آشا ورکر‘ نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر یو این آئی کے نامہ نگار کو بتایا ’ہمیں یہاں دھوکے سے لایا گیا۔ ہم صبح کے ساڑھے سات بجے گھر سے نکلے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ وہاں کوئی عہدیدار آیا ہے جو آپ کے مطالبات کو سنے گا‘۔ انہوں نے بتایا ’ہم گذشتہ 13 برسوں سے ایک معمولی اعزایہ پر کام کررہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نوکریاں مستقل کی جائیں۔ لیکن ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ہمیں دھوکہ دیکر لایا گیا ہے‘۔
مذکورہ آشا ورکر نے مزید بتایا ’ہم کپواڑہ سے قریب ڈیڑھ سو آشا ورکر آئے ہیں۔ ہمیں اپنی یونین کے لوگوں نے یہاں دھوکے سے لایا‘۔ ایک نوجوان جس نے اپنے آپ کو طالب علم بتایا، نے کہا ’ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ یہاں یہ پروگرام ہونے والا ہے۔ ہمیں دھوکہ دیا گیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہاں آپ کو کرکٹ سامان دیا جائے گا۔ ہم صبح کے نو بجے یہاں پہنچے۔ یہاں ہمارے لئے پینے کے پانی کا بھی انتظام نہیں کیا گیا تھا‘۔ پریس کانفرنس کے دوران جب نامہ نگاروں نے شری شری روی شنکر سے ’شرکائے تقریب کو دھوکے سے لائے جانے کے بارے میں پوچھا‘ تو ان کا کہنا تھا ’اس تقریب کا انعقاد میں نے نہیں کیا تھا۔ مجھے اس میں تقریر کے لئے مدعو کیا گیا تھا‘۔ تقریب کے منتظمین کا دعویٰ تھا کہ اس تقریب میں دس ہزار سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔یو این آئی
Comments are closed.