عوام کو نام بدلنے سے زیادہ بہتر حکمرانی چاہیے : عمر عبداللہ
سری نگر، 4 دسمبر
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو واضح کیا کہ ریاست کی عوام محض اداروں کے نام بدلنے سے زیادہ بہتر طرزِ حکمرانی، شفافیت اور عملی کارکردگی کے خواہش مند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی دلچسپی ناموں میں نہیں بلکہ حکومت کے کام میں ہوتی ہے ، اس لیے کارکردگی میں بہتری بنیادی ترجیح ہونی چاہیے ۔ سری نگر میں تقریب کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران وزیرا علیٰ نے کہا کہ نام بدلنا ٹھیک ہے ، لیکن عوام کو ناموں سے زیادہ اس بات کی فکر ہے کہ حکومت کیا کام کر رہی ہے ۔ لوگ نام نہیں دیکھتے ، کام دیکھتے ہیں۔
انہوں نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے پر تبصرہ کیا جس کے تحت ملک بھر میں راج بھون کا نام تبدیل کر کے لوک بھون رکھا جا رہا ہے ۔ عمر عبداللہ نے نیم مزاحیہ لیکن معنی خیز انداز میں کہا:’اگر نام بدلنے سے عوامی خدمت میں اضافہ ہوتا ہے تو اچھی بات ہے ، لیکن لوگوں کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ میں خود کو چیف منسٹر کہوں، مکھ منتری یا وزیرِ اعلیٰ۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم ان کے لیے کیا کر رہے ہیں۔’ ریزرویشن سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں ریزرویشن پالیسی کے تازہ جائزے سے متعلق فائل بدھ کی شام لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر کو بھیج دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی منظوری ملے گی، اس سلسلے میں آگے کے اقدامات متوقع ہیں۔ وادی کشمیر میں درجہ حرارت میں مسلسل گراوٹ کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے پییک ونٹر سپلائی شیڈول پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت دی ہے ۔ انہوں نے کہا:’ہم پوری کوشش کریں گے کہ بجلی کے طے شدہ شیڈول پر سختی سے عمل ہو۔ عوام کو شیڈول کے مطابق بجلی فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔’
عمر عبداللہ نے محکمہ بجلی کے افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ لائن لاس، اوورلوڈنگ اور غیر اعلانیہ کٹنگ سے بچنے کے لیے مربوط انتظامات کریں تاکہ عوام کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ نوگام پولیس اسٹیشن دھماکے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو ہمدردی کی بنیاد پر سرکاری ملازمت فراہم کیے جانے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے بتایا کہ تمام کیسز مختلف محکموں میں زیرِ غور ہیں۔ انہوں نے کہا:’جو لوگ قواعد کے مطابق اہل ہیں انہیں ان کا حق ضرور دیا جائے گا۔ جہاں بھی قواعد میں نرمی کی ضرورت ہوگی، حکومت اس میں بھی سہولت فراہم کرے گی۔ جیسے ہی تمام رسمی کارروائیاں مکمل ہوں گی، تقرری نامے متاثرہ خاندانوں کے حوالے کیے جائیں گے ۔’ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا مقصد ایسے خاندانوں کو معقول اور دیرپا سہارا فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے پیاروں کے غم اور مالی مشکلات سے نمٹنے میں مدد حاصل کرسکیں۔
Comments are closed.