شہری ہلاکتوں ،سانحہ کٹھوعہ اورنظربندوں کی جموں منتقلی کیخلاف مزاحمتی لیڈروں وکارکنوں کا احتجاج 

 سری نگر: شہری ہلاکتوں ،سانحہ کٹھوعہ اورنظربندوں کی جموں منتقلی کیخلاف مزاحمتی لیڈروں وکارکنوں نے نمازجمعہ کے موقعہ پرصدائے احتجاج بلندکیا۔حریت کے دونوں دھروں اورلبریشن فرنٹ کے زیراہتمام احتجاجی مظاہروں کے دوران جدوجہد کوجاری رکھنے کاعزم ظاہرکیاگیا۔ادھربھدرواہ قصبہ میں نمازجمعہ کے بعدآصفہ کیس کومذہبی یاسیاسی رنگ دینے کی کوششوں کیخلاف ایک زورداراحتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔کے این ایس کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے شوپیاں کے حالیہ قتل عام، سرینگر سینٹرل جیل سے کشمیری سیاسی قیدیوں کو باہر کی جیلوں میں منتقل کرنے اور کٹھوعہ میں کمسن آصفہ کے ساتھ پیش آئے المناک سانحہ کیخلاف دئے گئے احتجاجی پروگرام کی پیروی میں نماز جمعہ کے بعدمرکزی جامع مسجد سرینگر کے باہر درجنوں مزاحمتی قائدین اور کارکنوں نے سرکاری ظلم و جبر اور کشمیری عوام کیخلاف جاری جارحیت کیخلاف پر امن احتجاجی مظاہرہ کیا اور سرکاری سطح پر جاری مظالم اور پرتشدد کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔اس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت کی ہدایت پر حریت (گ)کے لیڈروں اور کارکنان نے جموں کشمیر کے محبوسین کو ریاست سے باہر کی جیلوں میں منتقل کرنے، تہاڑ جیل میں بند حریت قائدین کی حالت زار، رسنہ کٹھوعہ کی معصوم بچی عاصفہ کی عصمت ریزی اور قتل اور جموں کشمیر میں معصوم نوجوانوں کی ہلاکتوں کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔بیان کے مطابق احتجاج میں محمد یوسف نقاش، نثار حسین راتھر، محمد شفیع لون، محمد سلیم زرگر، خواجہ فردوس، مولوی بشیر احمد عرفانی، سید بشیر اندرابی، اشفاق احمد خان، رمیز راجہ، امتیاز احمد شاہ، یاسمین راجہ، ظہور احمد بیگ، محمد شفیع میر، عبدالاحد، عبدالرشید بیگ، عاصف راجہ اور دیگر کارکنان اور عوام کی خاصی تعداد شامل تھی۔ اس موقع پر قائدین نے سرینگر سینٹرل جیل سے محبوسین کو ریاست کی باہری جیلوں میں منتقل کرنے کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں واپس ریاست کی جیلوں میں منتقل کرنے پر زور دیا۔ حریت(گ)لیڈروںنے تہاڑ جیل میں بند حریت قائدین کو فوری طور پر رہا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان قائدین کو سیاسی انتقام گیرانہ پالیسی کے تحت مقید کیا گیا ہے اور ان پر لگائے گئے تمام الزامات فرضی ہیں اور جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی واستہ نہیں ہے۔ قائدین نے کٹھوعہ کی آصفہ کی عصمت ریزی اور قتل کے واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کڑی سے کڑی سزا دینے کی وکالت کرتے ہوئے قاتلوں کے حق میں ہندو انتہا پسند تنظیموں کے احتجاج کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ قائدین نے جموں کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے قتل وغارت گری کے واقعات میں ہورہے اضافہ پر اپنی گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ جموں کشمیر میں بھارت کی فورسز کی جانب سے ہورہے قتل وغارت گری کے واقعات کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ادھرتہاڑ جیل میں کشمیری اسیروں کی بدترحالت زار کو اجاگر کرنے کےلئے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر لبریشن فرنٹ کے قائدین اور اراکین لوگوں کی بڑی تعداد کے ہمراہ بڈشاہ چوک لال چوک کے نزدیک ایک پرامن احتجاجی ریلی نکالی اور دھرنا دیا۔ یہ احتجاج کشمیری اسیروں کی جموں منتقلی،ننھی آصفہ کے قاتلوں کو بچانے اور شوپےان کے قتل عام کے خلاف کیا گیا۔بیان کے مطابق احتجاجی ریلی کی قیادت نائب چیئرمین شوکت احمد بخشی کررہے تھے۔ ،احتجاج میں زونل صدر نور محمد کلوال ، مشتاق اجمل ،سراج الدین میر، شیخ عبدالرشید، ظہور احمد بٹ، محمد یاسین بٹ ،محمد صدیق شاہ، مشتاق احمد خان، پروفیسر جاوید ، شیم آخون ،معراج الدین پرے اور دوسرے کئی لوگوں نے شرکت کی۔بیان کے مطابق احتجاج میں شامل لوگ مدینہ چوک پر جمع ہوئے اور ہاتھوں میں پلے کارڈ لئے تھے۔اپنے خطاب میں قائدےن نے بڑھتے ہوئے ظلم و جبر اور فسطائیت کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ اس موقع پر شوکت احمد بخشی نے کہا سینٹرل جیل سرینگرسے سیاسی قیدیوں، عمر قید کی سزا پانے والوں نیزانڈر ٹرائل اسیروںکی جموںمنتقلی خالص انتقام گیری ہے ۔ اسیروں کے حقوق کو اقوام عالم نے تسلیم کیا ہے اور ان حقوق کو پامال کرنے والے اپنے آپ کو جمہوری کہلانے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔ کشمیری اسیروں کی بدترحالت زار کو اجاگر کرنے اور انہیں انصاف دلانے کےلئے ہر ایک کاوش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ان جیلوں میں مقید کشمیریوں خاص طور پر جن کو حال ہی میں سرینگر سے منتقل کرکے وادی سے باہر پہنچایا گیا ان اسیروں پر سخت ترین مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور اس کے ضمن میں کسی بھی عدالتی حکم کو بھی تسلیم نہیں کیا جارہا ہے۔ شوکت بخشی نے کہا کہ تہاڑ جیل میں مقید کشمیری نظربندوں کی حالت بدسے بتر ہے اور تہاڑ جیل میں کشمیر ی اسیروںپر ظلم وجبر ڈھائے جارہے ہیں اور انہیں ادویات کی معقول انتظام نہیں ہے۔فرنٹ رہنما نے کہا کہ شوپیان جیسے واقعات اور عام لوگوں پر ظالم وجبر کرنا بھارتی قابض افواج اور فورسز کا دیرینہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ جموں کشمیر میں معصومین کے قتل عام اور کٹھوعہ جیسے واقعات پر پردہ ڈالنے کےلئے ایسے ہی بے ہودہ اور لایعنی مفروضے تراشتے جارہے ہیں تاکہ اپنے گناہوں اور جرائم کو قانونی جواز بخش سکیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج اور فورسز جنہوں نے جموں کشمیر میں لاکھوں انسانوں کو اپنی سفاکیت کا نشانہ بناکر قتل کیا ہے کو دراصل بھارتی حکمرانوں اور انکے کشمیری گماشیوں کی سرپرستی حاصل رہتی ہے جو ہمیشہ ان کے جرائم پر پردہ ڈالنے کےلئے انہیں قانونی جوازفراہم کرنے کےلئے تیار بہ تیار رہتے ہیں۔ شوکت احمد بخشی نے کٹھوعہ جموں میں معصوم آصفہ کی سفاک طریقے پر قتل کردینے والے وردی پوش درندے کی انتہائی شرم ناک حرکت قرار دیتے ہوئے‘ کہا کہ حیران کن طور پرRapist اور قاتل کے حق میں نکل رہے فرقہ پرست ٹولا اپنے حقیر مفادات کےلئے جموں کو فرقہ پرستی کی نذر کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا ہے کہ ایک وردی پوش درندے نے معصوم بچی کی عصمت تار تار کی اور پھر اسے قتل کردیا ۔ جس کی نظیر ملنا بھی دشوار ہے اور آج جبکہ ایک قاتل و فاجر کے حق میں یہ ملامت آمیز احتجاج جاری ہے ‘ بھارتی میڈیا خاموش ہے اور اس سے بھار تی میڈیا اور صحافیوں کے اصل چہرے کو عیاں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست قوتوں اور دوسری ایجنسیوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ کشمیری مسلمان جموں کے مسلمانوں پر کسی حملے کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کریں گے۔

Comments are closed.