مودی حکومت جموں و کشمیر میں سیلاب متاثرین کی باز آبادکاری کے لئے پرعزم: امت شاہ
جموں، یکم ستمبر
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کے روز کہا کہ نریندر مودی حکومت جموں و کشمیر کے حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی مکمل باز آبادکاری کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہے۔
امیت شاہ نے جموں ایئرپورٹ کے نزدیک واقع متاثرہ گاؤں منگو چیک کا دورہ کیا جہاں ان کے ہمراہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، اپوزیشن لیڈر سنیل شرما اور بی جے پی کے دیگر سینئر رہنما موجود تھے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے متاثرین سے براہِ راست ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ حکومت بھرپور امداد، طبی سہولیات اور مستقل باز آبادکاری کے اقدامات کرے گی۔ بعد ازاں امیت شاہ نے ’ایکس‘ پر لکھا:’آج میں نے جموں کے منگوچیک گاؤں کا دورہ کیا جو حالیہ سیلاب سے شدید متاثر ہوا ہے۔ راحت اور ریسکیو آپریشن تیزی سے جاری ہیں، ساتھ ہی متاثرین کو طبی امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ مودی حکومت باز آبادکاری کے لئے تمام اقدامات کرنے کے لئے پرعزم ہے۔‘
اس سے قبل امیت شاہ نے بگرام چوک کے قریب توی پل پر جا کر نقصان کا معائنہ کیا۔ جموں کے ڈویژنل کمشنر رمیش کمار اور دیگر افسران نے انہیں تفصیلی بریفنگ دی۔
منگوچیک گاؤں کے مقامی افراد نے امیت شاہ کے دورے کو حوصلہ افزا قرار دیا۔ ایک رہائشی بھان سنگھ نے کہا:’گزشتہ ہفتے کے سیلاب نے میرا سب کچھ تباہ کر دیا، گھر میں کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ وزیر داخلہ نے آ کر ہمیں یقین دہانی کرائی کہ حکومت ہماری مدد کرے گی۔‘
وزیر داخلہ نے دورے کے بعد راج بھون میں تین اہم میٹنگز کیں جن میں لیفٹیننٹ گورنر، وزیر اعلیٰ، پولیس سربراہ نالین پربھات اور مرکز و یو ٹی انتظامیہ کے سینئر افسران شریک ہوئے۔ اس دوران سیلابی صورتحال، ریلیف آپریشن اور بارڈر سیکیورٹی گرڈ پر بھی غور ہوا جو ان فلیش فلڈز سے متاثر ہوا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 14 اگست سے جموں و کشمیر میں بادل پھٹنے، لینڈ سلائیڈ اور فلیش فلڈز کے نتیجے میں 130 سے زائد افراد ہلاک اور 33 لاپتہ ہوئے ہیں، جن میں سے 34 یاتری ماتا ویشنو دیوی یاترا کے دوران لینڈ سلائیڈ میں جاں بحق ہوئے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 26 اور 27 اگست کو جموں میں 24 گھنٹوں میں 380 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جو 1910 کے بعد سب سے زیادہ ہے، جبکہ اُدھمپور میں 630 ملی میٹر بارش ہوئی جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔
Comments are closed.