عباسی کے نیپال دورے سے ہندوستان کی تشویش میں اضافہ
کھٹمنڈو::پاکستان کے وزیر اعظم شاہدخاقان عباسی کی قیادت میں 32 رکنی وفد کے کل سے شروع ہوئے دو روزہ نیپال دورہ سے ہندوستان کی تشویش بڑھا دی ہے۔
مسٹر عباسی کو سرکاری دورہ پر بلا کر نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے ہندوستانی سفارت کاری کے سامنے ایک بڑا چیلنج پیش کر دیا ہے۔ یہ شاید پہلا موقع ہے جب نیپال میں نئی حکومت کے قیام کے بعد وہاں ہندوستانی وزیر اعظم سے پہلے پاکستان کے وزیر اعظم کا دورہ ہو رہا ہے۔ مسٹر عباسی کے دو روزہ دورہ پر کھٹمنڈو پہنچنے پر ان کا زوردار استقبال کیا گیا ہے۔مسٹر عباسی کے تربھون انٹرنیشنل ہوائی اڈہ پہنچنے پر وزیر خزانہ یوراج كھاٹي واڈا نے ان کا استقبال کیا۔ مسٹر عباسی پہلی بار نیپالی قیادت سے ملاقات کریں گے۔
اسلام آباد میں پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، "وزیر اعظم کے دورے سے کاروبار، تعلیم، سیاحت، سیکورٹی اور لوگوں سے ا رابطہ سمیت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو مزید وسیع اور مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرے گا‘‘۔ بیان میں مزید کہا گیا’’ایک اہم علاقائی تنظیم کے طور پر جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کو بااختیار بنانے کے طریقوں پر بھی بحث ہو گی‘‘۔
نیپال کے مقامی میڈیا کے مطابق مسٹر عباسی کے دورے کو لے کر کچھ سینئر سرکاری حکام سمیت بہت سے لوگوں کو چونکا دیا ہے۔
جاری،یو این آئی
Comments are closed.