ہلاکتوں کے خلاف شوپیان،پلوامہ اور شہر خاص میں ہڑتال جاری
سرینگر::دو جنگجو ﺅں اور چار عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف منگل کو مسلسل دوسرے روز بھی احتجاجی وتعزیتی ہڑتال سے شوپیان,پلوامہ اور شہر خاص میں معمولات ِزندگی مفلوج ہو کر رہ گئے۔ جنوبی ضلع شوپیان،پلوامہ اور شہر خاص میں دکانات ،کاروباری ادارے اورتجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر سڑکوں سے غائب رہا ۔
احتجاجی وتعزیتی ہڑتال کے نتیجے میں جنوبی ضلع شوپیان میں منگل کو مسلسل دوسرے روز بھی عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ۔یہ ہڑتال پہنو شوپیان میں پیش آئے والے فائرنگ کے ایک واقعہ میں دو جنگجو ﺅں اور چار عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف کی گئی ۔
اگر چہ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے منگل کو کسی طرح کی ہڑتال کی کال نہیں دی تھی ،تاہم شوپیان میںلوگوں نے ہلاکتوں کے خلاف از خود ہڑتال کرکے اپنا احتجاج درج کرایا ۔ معلوم ہوا ہے کہ شوپیان میں دکانات ،کاروباری ادارے اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ۔
ہڑتال کے نتیجے میں شوپیان میں ہو کا عالم دیکھنے کو ملا جبکہ حساس علاقوں میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔ادھر شہرخاص میں اُس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب یہاں نقاب پوش نوجوانوں نے سڑکوں پر نکل کر ہلاکتوں کے خلاف صدائے احتجاج بلندکی ۔
ادھر جنوبی ضلع پلوامہ میں منگل کو مسلسل دوسرے روز ہڑتال سے معمول کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ۔اس دوران کئی مقامات پر ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے ۔
مظاہرین نے مشتعل ہو کر یہاں سے گزر نے والی گاڑیوں پر پتھراﺅ کیا جسکے نتیجے میں یہاں دکانات آناً فاناً بند ہوگئیں ۔شہر خاص کے نوہٹہ ،گوجوارہ اور اسکے گرد ونواح میں بعد ازاں معمولات ِ زندگی متاثر ہو کر رہ گئے ۔
ادھرجموں وکشمیر میں شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل خدمات منگل کو مسلسل دوسرے دن بھی معطل رکھی گئیں۔ یہ خدمات جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں اتوار کی شام پیش آنے والے فائرنگ کے واقعہ میں دو جنگجوو¿ں اور چار عام شہریوں کی ہلاکت کے بعد وادی بالخصوص جنوبی کشمیر میں پیدا شدہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر احتیاطی طور پر معطل کی گئی تھیں۔
محکمہ ریلوے کے ایک عہدیدار نے بتایا ’ہم نے آج (منگل کے روز) چلنے والی تمام ریل گاڑیاں معطل کردی ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ سری نگر سے براستہ جنوبی کشمیر جموں خطہ کے بانہال تک کوئی ریل گاڑی نہیں چلے گی۔ اسی طرح سری نگر اور بارہمولہ کے درمیان بھی کوئی ریل گاڑی نہیں چلے گی۔مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ انہیں گذشتہ شام ریاستی پولیس کی طرف سے ایک ایڈوئزری موصول ہوئی جس میں ریل خدمات کو احتیاطی طور پر منگل کو مسلسل دوسرے دن بھی معطل رکھنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا ’ہم نے اس ایڈوائزری پر عمل درآمد کرتے ہوئے ریل خدمات کو آج دوسرے دن بھی معطل رکھنے کا فیصلہ لیا‘۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ ریل گاڑیوں کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں اور ریلوے املاک کو نقصان سے بچانے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔
تاہم وادی میں مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے شوپیان ہلاکتوں کے خلاف یک روزہ احتجاجی ہڑتال کے بعد منگل کو معمولات ِ زندگی بحال ہوگئے ۔
یاد رہے کہ پہنو شوپیان میں فائرنگ کے واقعہ میں دو جنگجو اور چار عام شہری جاں بحق ہوئے تھے ۔عام لوگوں نے عام شہریوں کی ہلاکت کو بہیمانہ قتل سے تعبیر کیا ۔وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے نے شہری ہلاکتوں کو کراس فائرنگ کا شاخسانہ قرار دےتے کہا تھا کہ وہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعہ میں عام شہریوں کی ہلاکت پر انتہائی دکھی ہیں۔
انہوں نے پیر کے روز مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’شوپیان میں کراس فائرنگ میں ہوئی شہری اموات پر انتہائی دکھی ہوں۔میں سوگوار کنبوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتی ہوں‘۔ محبوبہ مفتی کے اس ٹویٹ نے فوج کے اس دعوے کی قلعی کھول دی ہے جس میں فائرنگ کے واقعہ میں مارے گئے افراد کو جنگجووں کے بالائی زمین ورکرس (اعانت کار) قرار دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ ضلع شوپیان کے پہنو نامی گاو¿ں میں اتوار کی شام قریب آٹھ بجے فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا۔ فائرنگ کے اس واقعہ کے بعد ریاستی پولیس کو جائے وقوع سے ایک جنگجو اور چار عام شہریوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ فوج نے فائرنگ کے اس واقعہ کے فوراً بعد دعویٰ کیا تھا کہ اس کا جنگجوو¿ں کے ساتھ ایک مختصر مسلح تصادم ہوا جس کے دوران ایک جنگجو اور جنگجوو¿ں کے تین اعانت کاروں کو ہلاک کیا گیا۔
Comments are closed.