جموں میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف ’اشتہاری‘ مہم
جموں :جموں کی ایک تنظیم ’ٹیم جموں‘ اور جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے شہر میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف اشتہاری مہم شروع کردی ہے۔ اتوار کے روز شہر کے چند روزناموں میں صفحہ اول پر ایک صفحے کا اشتہار شائع ہوا جس میں شہر میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کو اہلیان جموں کے لئے خطرہ قرار دیا گیا۔ ٹیم جموں کی جانب سے شائع کرائے جانے والا یہ اشتہار اُس دن شائع ہوا جب ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے شہر کے دسہرہ گراو ¿نڈ میں پی ڈی پی یوتھ کونشن سے خطاب کرتے ہوئے جموں کو مذہبی رواداری کا مرکز قرار دیا اور کہا کہ جموں کے لوگوں نے دوسرے خطوں اور علاقوں سے آنے والے لوگوں کے لئے نہ صرف اپنے گھروں بلکہ اپنے دلوں کے بھی دروازے کھلے رکھے ہیں۔ ٹیم جموں کی جانب سے شائع کرائے گئے اشتہار میں کہا گیا ’روہنگیا پناہ گزینوں کا خطرہ امن پسند جموں واسیوں کے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ آیئے جموں کو بچانے کے لئے متحد ہوجاتے ہیں‘۔ اس اشتہار میں چیئرمین ٹیم جموں زورآور سنگھ کا نام اور تصویر بھی دیکھی گئی۔ اس سے قبل 2 مارچ کو جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے یہی متن والا اشتہار چند روزناموں میں صفحہ اول پر شائع کرایا گیا۔ اس پر چیمبر کے سکریٹری گورو گپتا کا نام اور تصویر دیکھی گئی تھی۔ جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے گذشتہ برس کے اپریل میں دھمکی دی تھی کہ ریاستی حکومت نے روہنگیا پناہ گزینوں کو ریاست بدر نہیں کیا تو ہم خود انہیں شناخت کرکے قتل کردیں گے۔ اس بیان پر جموں چیمبر کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جموں میں گذشتہ روز ہولی کے موقع پر موٹر سائیکلوں پر سوار بعض نوجوانوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں دیواروں پر روہنگیا مخالف نعرے تحریر کئے۔ ان نوجوانوں نے اپنے ساتھ قومی پرچم رکھا تھا اور وہ ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ بلند کررہے تھے۔ دوسری جانب جموں کی بعض جماعتوں نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر جموں میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کو فوراً سے پیشتر جموں بدر نہیں کیا گیا تو یہ جماعتیں ایجی ٹیشن شروع کرے گی جس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف اخبارات میں ٹیم جموں اور جموں چیمبر آف کامرس کی اشتہاری مہم سے قبل پنتھرس پارٹی نے گذشتہ برس کے فروری میں شہر میں چند ہورڈنگز لگائی تھیں جن کے ذریعے پنتھرس پارٹی کے لیڈروں نے روہنگیائی اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کو جموں چھوڑنے کے لئے کہا تھا۔ ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے کہا کہ جموں میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں پر کوئی فیصلہ مرکزی سرکار لے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ’حکومت ہندوستان اس پر کوئی فیصلہ لے گی۔ یہ معاملہ دو ملکوں کے درمیان ہے‘۔ اس دوران ٹیم جموں کے چیئرمین زورآور سنگھ جموال نے الزام لگایا کہ جموں میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کے جنگجو تنظیموں کے ساتھ رابطے ہیں اور یہ جموں کی نئی نسل کو تباہ کرنے کا منشا رکھتے ہیں۔ انہوںنے کہا ’ان کے جنگجو تنظیموں کے ساتھ رابطے نظر آرہے ہیں۔ ہماری آنے والی نسل کو ختم کرنے کے لئے یہ منشیات فروشی بھی کررہے ہیں۔ ان کے خلاف بے شمار ایف آئی آر درج ہیں۔ اس کے پیش نظر ہم نے من بنایا کہ ان کے خلاف ایک مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے ایک سال قبل ریاستی گورنر این این ووہرا کو ایک میمورنڈم دیا تھا۔ ہم نے تب بھی مطالبہ کیا تھا کہ جموں میں مقیم رہنگیا اور بنگلہ دیشیوں کو فوری طور پر باہر نکالا جائے‘۔ انہوں نے کہا ’کچھ دن پہلے کی ہم بات کریں تو سنجوان ملٹری اسٹیشن پر جو حملہ ہوا، اس کی تحقیقات سے عندیہ مل رہا ہے کہ روہنگیاز کا اس میں ہاتھ تھا۔ ریاستی حکومت کے نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ کا بیان آیا ہے کہ روہنگیاز کا اس میں کنکشن تھا‘۔ جموال نے الزام لگایا کہ روہنگیا پناہ گزین غیرقانونی کاموں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا ’یہ نہ صرف غیرقانونی طریقے سے ہمارے جموں خطہ میں مقیم ہیں، بلکہ غیرقانونی کام بھی کررہے ہیں۔ کب تک ہم ایسے لوگوں کو برداشت کریں گے؟ ہم چاہتے ہیں کہ قوم پرست لوگ ایک ہی پلیٹ فارم پر آکر حکومت پر دباو ¿ ڈالیں کہ وہ روہنگیا اور بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو جموں بدر کرے‘۔ انہوں نے ایجی ٹیشن کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ’اسمبلی میں سرکار نے خود مانا ہے کہ جموں میں ہزاروں روہنگیا اور بنگلہ دیشی غیرقانونی طور پر رہائش پذیر ہیں۔ لیکن سرکار ان کو جموں بدر کرنے میں کوئی سنجیدگی ظاہر نہیں کررہی ہے۔ اگر یہ سرکار یوں ہی خاموش رہی تو ٹیم جموں عنقریب ایجی ٹیشن شروع کرے گی‘۔ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اتوار کے روز ایک پارٹی یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جموں کو مذہبی رواداری کا مرکز قرار دیا اور اہلیان جموں کو مفاد خصوصی رکھنے والے فرقہ پرست عناصر کی سازشوں سے ہوشیار رہنے کی پرزور اپیل کی۔ انہوں نے اہلیان جموں سے یہ اپیل ضلع کٹھوعہ میں جنوری کے اوائل میں پیش آئے آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کے قتل اور عصمت دری واقعہ پر اور جموں میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف چلائی جانے والی نفرت آمیز مہموں سے پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں کی تھی۔ بی جے پی ، پنتھرس پارٹی، وی ایچ پی اور آر ایس ایس پہلے سے ہی جموں میں روہنگیائی پناہ گزینوں کی موجودگی کے خلاف ہیں۔ 10 فروری کو جب جموں کے سنجوان ملٹری اسٹیشن ( 36 بریگیڈ فرسٹ جموں وکشمیر لائٹ انفینٹری) پر فدائین حملہ ہوا تو بی جے پی کے مختلف لیڈران بشمول اسمبلی اسپیکر کویندر گپتا نے اس کے لئے علاقہ میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ ملٹری اسٹیشن پر حملے میں 6 فوجی ، ایک عام شہری اور تین حملہ آور مارے گئے تھے۔ فدائین حملے کے تناظر میں کویندر گپتا نے اسمبلی کے اندر کہا تھا کہ یہ حملہ علاقہ میں روہنگیا مسلمانوں کی موجودگی کی وجہ سے پیش آیا ۔ ان کا کہنا تھا ’علاقہ میں روہنگیا پناہ گزینوں کی موجودگی ایک سیکورٹی خطرہ بن گیا ہے۔ حملے میں ان پناہ گزینوں کا بھی ہاتھ ہوسکتا ہے‘۔ انہیں اس بیان پر اپوزیشن نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے اراکین کی شدید برہمی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسمبلی میں اپنے متنازع بیان سے قبل اسپیکر گپتا نے ملٹری اسٹیشن کے باہر نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ روہنگیا مسلمان پہلے سے ہی شک کے دائرے میں تھے۔ انہوں نے کہا تھا ’اس میں کوئی دو رائے نہیں کہیں کہیں سیکورٹی میں چوک ہوئی ہے۔ یہاں رہنے والے لوگ (روہنگیا مسلمانوں) پہلے سے ہی شک کے دائرے میں تھے۔ انتظامیہ نے پہلے ہی ان کے خلاف کاروائی کی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جلد ہی ان پر کوئی فیصلہ لیا جائے گا‘۔ سنجوان ملٹری اسٹیشن پر فدائین حملہ اور اسمبلی کے اندر و باہر بی جے پی کے اراکین کی روہنگیا مسلمانوں سے متعلق متنازعہ بیان بازی کے پس منظر میں جموں کے مضافاتی علاقہ گاندھی نگر کے چھنی راما علاقہ میں 10 فروری کی رات کو کچھ شرارتی عناصر نے روہنگیا پناہ گزینوں کی جھگی جھونپڑیوں کو مبینہ طور پر آگ کے شعلوں کی نذر کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ ان شرارتی عناصر نے جھونپڑیوں کی طرف کچھ پوسٹر بھی پھینکے تھے جن پر لکھا تھا کہ روہنگیا پناہ گزینوں کو واپس بھیجا جائے۔ پی ڈی پی ترجمان اعلیٰ محمد رفیع کا کہنا ہے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف چلائی جارہی نفرت آمیز مہمات پریشان کن اور قابل مذمت ہیں۔ جموں میں اگرچہ مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے قریب تین لاکھ رفیوجی بھی رہائش پذیر ہیں، تاہم بی جے پی اور پنتھرس پارٹی انہیں ہر ایک سہولیت فراہم کئے جانے کے حق میں ہیں۔ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق جموں کے مختلف حصوں میںمقیم میانمار کے تارکین وطن کی تعداد محض 5 ہزار 700 ہے۔ یہ تارکین وطن جموں میں گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے مقیم ہیں۔ گذشتہ برس فروری کے اوائل میں جموں شہر میں چند ہورڈنگز نمودار ہوئیں جن کے ذریعے پنتھرس پارٹی کے لیڈروں نے روہنگیائی اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کو جموں چھوڑنے کے لئے کہا تھا۔ مرکزی سرکار کی جانب سے گذشتہ برس سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ دائر کیا گیا جس میں روہنگیا مسلمانوں کو ملک کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔ تاہم نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں یہ خطرہ مابعد 2014 ءپیش رفت کا پیدا کردہ ہے۔
Comments are closed.