شوپیان ہلاکتیں :محمد یاسین ملک کی سربراہی میں مشترکہ مزاحمتی قیاد ت کا لال چوک میں احتجاج,بدھ کو شوپیان چلو کی کال

سرینگر:: مشترکہ مزاحمتی قائدین سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ فوج اور پولیس کی جانب سے شوپیان میں کیا گیا قتل عام جموں کشمیر میں بھارتی جمہوریت کا سفاک چہرہ واضح کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی پشت پناہی میں قائم پی ڈی پی حکومت اور دوسرے ہند نواز سیاست کار اور انکی جماعتیں اس قتل عام کی اصل ذمہ دار ہیں۔ جموں کشمیر کے لوگ بدھوار مورخہ ۷ مارچ ۸۱۰۲ءکو شوپیان کے شہداءکو خراج عقیدت ادا کرنے کےلئے شوپیان کا رخ کریں گے جبکہ اسی دن حسبِ اعلان اسیروں کی سرینگر سے جموں منتقلی کے خلاف مکمل ہڑتال بھی کی جائے گی۔

موصولہ بیان کے مطابق شوپیان قتل عام جس میں چھ کشمیری معصومین کو شہید جبکہ درجنوں کو زخمی کردیا گیا ہے کے خلاف احتجاج کرنے کےلئے آج محمد یاسین ملک کی سربراہی میں مشترکہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ قائدین و اراکین نے لال چوک سرینگر میں ایک احتجاجی ریلی نکالی جس دوران محمد یاسین ملک کو بشیر احمد کشمیری، غلام محمد ڈار، محمد صدیق ہزاری،ساحل احمد وار، فاروق احمد شیخ وغیرہ کے ہمراہ گرفتار کرلیا گیا ہے۔

محمدیاسین ملک کو بعدازاں بشیر احمد کشمیری اور غلام محمد ڈار کے ساتھ ۰۱ مارچ تک کےلئے عدالتی تحویل پر سرینگر سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا ہے ۔یہ بات واضح رہے کہ علیل بزرگ قائد سید علی شاہ گیلانی حسب دستور خانہ نظر بند ہیں جبکہ پولیس نے کل شام سے قائد میرواعظ محمد عمر فاروق، محمد اشرف صحرائی، محمد اشرف لایا،بلال احمد صدیقی وغیرہ کو خانہ نظر بند کردیا ہے جبکہ عمر عادل سمیت کئی دوسرے لوگوں کو گرفتار کرکے تھانوں میں مقید کردیا گیا ہے۔

مشترکہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ قائدین و اراکین لوگوں کی ایک بڑی تعداد جن میں معززخواتین بھی شامل تھیں کے ہمراہ آج مائسمہ میں جمع ہوئیں جہاں سے انہوں نے قائد محمد یاسین ملک کی سربراہی میں لال چوک کی جناب مارچ کیا۔ شوپیان قتل عام کے خلاف فلکشگاف نعرے بلند کرتا ہوا یہ جلوس جیسے ہی آگے بڑھا پولیس اور فورسز نے اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی جس پر شرکائے جلوس سخت مزاحمت کے بعد راستہ بدل کر بنڈ سے ہوتے ہوئے بڈشاہ پل سے ہوتے ہوئے بڈشاہ چوک پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

اس موقع پر پولیس اور فورسز نے طاقت کا وحشیانہ استعامل کرتے ہوئے یاسین صاحب اور دوسرے لوگوں کو گرفتار کیا اور جلوس کو تتر بتر کردیا۔ بھارتی نوآبادیاتی فوج اور پولیس کی جانب سے شوپیان میں کئے گئے قتل عام جس میں چھ معصوم کشمیری شہید اور درجنوں زخمی کئے گئے ہیںکو بھارتی استعمار اور جبر کی ایک اور مثال قرار دیتے ہوئے مشترکہ مزاحمتی قائدین سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمدیاسین ملک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بھارتی خون کے خوگر فوجی اور فورسز صرف اور صرف کشمیریوں کو سفاکانہ طریقے پر قتل کرنے کےلئے مامور ہیں جبکہ جملہ ہند نواز سیاست دان، انکی جماعتیں خاص طور پر آر ایس ایس کی حمایت یافتہ محبوبہ سرکار ان قاتلوں کو قانونی تحفظ دینے کےلئے مامور و متعین ہے۔مشترکہ قیادت نے کہا کہ اس قتل عام کےلئے یہ ہند نواز سیاست دان ،انکی جماعتیں اور سوچ براہ راست ذمہ دار ہیں اور مکافات عمل کے ابدی قانون کے تحت انہیں اپنے ان جرائم کا حساب دینا ہی پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی قابضین کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی کے بڑھتے ہوئے واقعات سرکاری کشمیر کو ایک ایسے ذبح خانے میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں جوانوں، بچوں ،بزرگوں یہاں تک کی خواتین کی زندگیوں کو بھی بے دریغ چھینا جارہا ہے۔ قائدین نے کہا کہ جموں کشمیر کے پیر و جوانوں کا قتل عام اگرچہ پچھلی کئی دہایﺅں سے جاری و ساری ہے لیکن جس بے شرمی کے ساتھ اب کشمیری خواتین اور بچوں پر بھی بندوقوں کے دہانے کھول کر انہیں تہہ تیغ کیا جارہا ہے وہ اس قتل عام کو اور بھی گھناﺅنا بنارہا ہے۔

قائدین نے کہا کہ انسانی لہو کے خوگر(Vampires)بھارتی فوجیوں کو کشمیریوںکے خون کی ایسی لت لگ چکی ہے انہیں انسانوں کو مارڈالنے کے سوا کچھ سجھائی نہیں دیتا ہے۔ مشترکہ قائدین نے کہا کہ کشمیریوں کے لہو کے اس ارزانی کےلئے دراصل جملہ ہند نواز کشمیری سیاست دان براہ راست ذمہ دار ہیں کیونکہ یہی ہیں کہ جو اسمبلیوں ،پنچایتوں اور پارلیمان کے ایوانوں میں جاکر وہ قوانین بناتے ہیں جو ودری پوش قاتلوں اور مجرموں کو کسی بھی مواخذے سے استثناءفراہم کرکے انہیں انسانوں کا بے دریغ لہو بہانے کی شہہ فراہم کرتے ہیں۔قائدین نے کہا کہایک طرف بھارتی قابض افواج ہیں کہ جن کا واحد کام کشمیریوں کو تہہ تیغ کرنا ہے اور دوسری جانب ان کے کشمیری گماشتے ہیں کہ جو قتل عام ہوتے ہی مگرمچھ کے ٹسوے بہاکر قتل عام کی تحقیقات کے اعلان کردیتے ہیں تاکہ اصل جرم سے لوگوں کی توجہ ہٹائی جاسکے۔

مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ شوپیاں میں ماقبل تین نہتے شہریوں کے قتل میں ملوث فوج کے میجر کیخلاف پولیس کی طرف سے درج کئے گئے ایف آئی آر کے تحت مزید کسی کارروائی پر بھارت کے سپریم کورٹ کی جانب سے روک لگانا انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا ایسا نہیں ہے کہ ماضی کے تجربے کے تحت کشمیری عوا م کو نہتے شہریوں کی فوجی اہلکاروں کے ہاتھوں ارادتاً قتل پر انصاف ملنے کی کوئی توقع ہے لیکن سب سے بڑی حیران کن اور آنکھوں میں ڈھول جھونکنے والی بات یہ ہے کہ جموں کشمیر کی نام نہاد سرکار کے وکیل نے عدالت میں کہا ہے کہ ملزم میجر آدتیہ کمار کا نام ایف آئی آر میں درج نہیں ہے جبکہ پورے عرصے کے دوران حکومت یہ دھنڈورا پیٹی رہی کہ اس معاملے میں ملوث مجرم کی پہچان کی گئی ہے اور یقیناًانصاف کیا جائیگا۔

مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ کمزور اور عزت نفس سے ماورا یہ حلیف سمجھتے ہے کہ لوگوں کو جھوٹے وعدوں اور جھوٹی ہمدرددیوں کی بنیاد پر بے وقوف بنایا جاسکتا ہے جبکہ عوام اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ ان حلیفوں کے وعدوں کی کوئی وقعت و اعتبار نہیں ہے اور ان کا واحدمقصد کس بھی قیمت پر یہاں تک کہ عوام کی قیمت پر اقتدار کی کرسی پر قابض رہنا ہے۔ مشترکہ قیادت نے کہا کہ بھارت اور اسکے گماشتے اپنی فوجی طاقت کوکشمیریوں کو تہہ تیغ کردینے کےلئے استعمال کررہے ہیں جس کا واحد مقصد کشمیریوں کی مزاحمت کو ختم کرنا ہے لیکن یہ ظالم و جابر اس تاریخی حقیقت سے نابلد ہیں کہ فوجی طاقت اور ظلم کے بل پر عوامی تحاریک کو دبانا ممکن نہیں ہوا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عرصہ ¿ دراز سے بھارتی جبر کا مردانہ وار مقابلہ کرتے آرہے ہیںاور جبر کے ان ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیریوں کی مزاحمت اور مقاومت حصول منزل مقصود تک جاری رہے گی۔ ان شاءاللہ۔انہوں نے اعلان کیا کہ شوپیان کے شہداءکو شایان شان طریقے پر خراج عقیدت ادا کرنے کےلئے مشترکہ قیادت سے وابستہ قائدین کی سربراہی میں لوگ بدھوار مورخہ ۷ مارچ ۸۱۰۲ءکو شوپیان کی جانب مارچ کریں گے اور شوپیان میں ان شہداءکےلئے اجتماعی دعائیہ مجلس میں شرکت کریں گے جبکہ اُسی دن حسب اعلان سابق کشمیری اسیروں خاص طور پر عمر قید کی سزا میں قید افرادکی سرینگر جیل سے جموں منتقلی کے خلاف بھی ایک مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال بھی کی جائے گی۔

انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بدھوار مورخہ ۷ مارچ کو مکمل ہڑتال بھی کریں اور شوپیان کی جانب مارچ کرکے معصوم شہداءکو ان کے شایان شان خراج عقیدت بھی پیش کریں۔درایں اثناءجموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک جنہوں نے مشترکہ قیادت کے احتجاجی جلوس کی قیادت کی اور گرفتار کرلئے گئے کو دو اور لیڈران بشیر کشمیری اور غلام حمد ڈار کے ہمراہ سرینگر سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا ہے۔ انہیں ۰۱ مارچ ۸۱۰۲ءتک کےلئے عدالتی تحویل پر دیا گیا ہے۔

گرفتاری سے قبل فرنٹ چیئرمین نے میڈیا نمائندگان سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب بھارتی فوجیوں اور فورسز کا کشمیریوں کا خون بہانا جاری ہے اور دوسری جانب نام نہاد حکمران اس قتل عام سے توجہ ہٹانے کےلئے مفروضے اور من گھڑت بیانات داغتے نظر آرہے ہیں۔ ان بے شرم حکمرانوں کی سفاکیت کا یہ عالم ہے کہ انہیں انسانوں کے کٹتے جسم اور بہتا لہو بھی نظر نہیں آرہا ہے بلکہ اقتدار کی ہوس نے ان کے ہوش و حواس کو باختہ اور ان کی بینائی کو ہی سلب کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری کی جدوجہد آزادی کو ظلم و جبر کے بل پر شکست دینے کے خواب بننے والے ان سفاک بے شرموں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ کشمیری ایسے حربوں سے نہ ماضی میں خوف زدہ ہوئے ہیں اور نا ہی مستقبل میں ہوں گے اور یہ کہ شہداءکے مقدس لہو سے مربوط یہ تحریک اپنے مقدس ہدف تک ہر حال میں پہنچائی جائے گی۔

Comments are closed.