کشتواڑ بادل پھٹنے سے تباہی، 10 ہلاکتوں کا خدشہ، راحت رسانی کا کام جاری
جموں،14اگست
جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے چسوتی علاقے میں جمعرات کی دوپہر بادل پھٹنے کے باعث اچانک آنے والے سیلاب میں کم از کم 10 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق امدادی ٹیموں کو فوری طور پر جائے وقوعہ روانہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مچیل ماتا یاترا کے لیے روانہ ہونے والے یاتریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کشتواڑ پنکج شرما نے بتایا کہ ’چسوتی علاقے میں اچانک آنے والا سیلاب مچیل ماتا یاترا کے ابتدائی پوائنٹ پر پیش آیا۔ راحت رسانی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقام تک پہنچایا جا رہا ہے۔‘
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس سانحے کی اطلاع جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور مقامی ایم ایل اے سنیل کمار شرما نے دی۔
انہوں نے کہا: ’چسوتی علاقے میں خوفناک بادل پھٹنے سے بڑے جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔ انتظامیہ فوری طور پر حرکت میں آ گئی ہے، ریسکیو ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔ نقصانات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ضروری امدادی اور طبی سہولیات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ میرے دفتر کو مسلسل اپ ڈیٹ فراہم کی جا رہی ہیں اور ہر ممکن امداد دی جائے گی۔‘
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے پولیس، فوج اور آفات سے نمٹنے والے اداروں کو ہدایت دی کہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
انہوں نے کہا: ’چسوتی کشتواڑ میں بادل پھٹنے کی خبر سے شدید صدمہ پہنچا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔ سول انتظامیہ، پولیس، فوج، این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کے اہلکاروں کو ہدایت دی ہے کہ امدادی کاموں کو تیز کیا جائے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔‘
دریں اثنا مقامی ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ کا امکان ہے۔ انہوں نے کہاکہ بادل پھٹنے کی وجہ سے چسوتی علاقے میں ہر سو تباہی مچی ہوئی ہے اور فی الحال لاپتہ ہوئے افراد کی تلاش کی خاطر بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق بادل پھٹنے کی وجہ سے دس سے پندرہ افراد کے مارے جانے کا خدشہ ہے تاہم ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہیں۔
Comments are closed.